LIVE
Loading Breaking News...

غزہ امن منصوبہ اور حماس کا غیر مسلح ہونا: تازہ ترین صورتحال

News Image
امریکہ کے مطابق حماس وسیع پیمانے پر ہتھیار ڈالنے کے منصوبے پر راضی ہو گئی ہے تاہم اسرائیل کا مؤقف ہے کہ حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے تک فوجی انخلا ممکن نہیں۔ اس دوران غزہ میں اسرائیلی حملے جاری ہیں اور نیتنیاہو کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ جواب سامنے نہیں آیا۔
مشرق وسطیٰ کے حساس ترین خطے غزہ میں امن کی بحالی کے حوالے سے ایک بار پھر غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق حماس نے ایک وسیع تر منصوبے کے تحت اپنے ہتھیار ڈالنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، جس کو خطے میں دیرپا امن کے لیے ایک اہم موڑ قرار دیا جا رہا ہے۔ تاہم اس مبینہ پیشرفت کے باوجود زمینی حقائق انتہائی سنگین ہیں اور غزہ کے مختلف علاقوں میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں تاحال جاری ہیں۔ دوسری جانب اسرائیلی حکام اور ذرائع ابلاغ نے واضح کیا ہے کہ جب تک حماس کی جانب سے 'حقیقی اور قابلِ تصدیق' انداز میں ہتھیار نہیں ڈالے جاتے، اس وقت تک اسرائیلی افواج غزہ سے پسپا نہیں ہوں گی۔ وال اسٹریٹ جنرل اور بی بی سی سمیت دیگر بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس کے مطابق، امریکی تجویز پر اسرائیلی ردعمل تاحال احتیاطی اور مبہم ہے۔ اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتنیاہو کی طرف سے اس مبینہ امن منصوبے پر کوئی واضح ردعمل سامنے نہیں آیا ہے، اور اس دوران ویک اینڈ پر بھی غزہ میں مہلک فضائی حملے جاری رہے ہیں۔ امن بورڈ اور دیگر عالمی سفارتی ذرائع کا بھی یہی کہنا ہے کہ اسرائیل کسی بھی صورت میں حماس کے مکمل غیر مسلح ہونے سے پہلے اپنی فوج کا انخلا عمل میں نہیں لائے گا۔ اس تمام صورتحال نے غزہ کے لاکھوں جنگ زدہ شہریوں کے لیے امید اور مایوسی کی ایک نئی کیفیت پیدا کر دی ہے۔ ایک طرف جہاں سفارتی سطح پر جنگ بندی اور امن کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے، وہیں دوسری طرف زمینی سطح پر خونریز حملے جاری رہنے کے باعث انسانی بحران مزید سنگین ہوتا جا رہا ہے۔ عالمی برادری اور خطے کےمفاد عامہ کے ادارے اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ تمام فریقین کو تنازع کے پرامن حل کے لیے لچک کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ غزہ کے عوام جو گزشتہ کئی ماہ سے انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں، وہ ایک ایسے مستقل امن کے منتظر ہیں جو انہیں اس نہ ختم ہونے والی جنگ سے نجات دلائے۔ تاہم حماس کے غیر مسلح ہونے اور اسرائیلی انخلا کے مطالبات کے درمیان یہ امن منصوبہ کس حد تک کامیاب ہو پاتا ہے، اس کا فیصلہ آنے والے دنوں میں ہی ہو سکے گا۔