Pakistan
مسلم لیگ ن کی کابینہ میں مہاجر نشستوں کے ایم ایل ایز کی عدم شمولیت
پاکستان مسلم لیگ ن نے آزاد کشمیر میں مہاجر نشستوں پر کامیابی حاصل کرنے والے اراکین اسمبلی کو کابینہ میں شامل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد سیاسی حلقوں اور کشمیری قیادت کی جانب سے ردعمل سامنے آ رہا ہے۔
پاکستان مسلم لیگ ن (پی ایم ایل این) نے آزاد جموں و کشمیر میں ایک اہم سیاسی فیصلے کے تحت مہاجر نشستوں پر منتخب ہونے والے اراکین اسمبلی کو صوبائی یا ریاستی کابینہ میں شامل نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے بعد سے خطے کی سیاست میں ہلچل مچ گئی ہے اور مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے اس پر آراء کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس فیصلے کا مقصد حکومت سازی کے دوران توازن قائم رکھنا اور اتحادیوں کو مطمئن کرنا ہے۔ دوسری جانب کشمیر کی سطح پر مہاجر نشستوں کی اہمیت اور ان کے کردار کو لے کر بھی بحث چھڑ گئی ہے۔
اس فیصلے کے تناظر میں کشمیری قیادت بالخصوص میرواعظ اور دیگر رہنماؤں نے مہاجر نشستوں کو ختم کرنے کے مطالبات کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مہاجر نشستیں کشمیری مہاجرین کی سیاسی نمائندگی کا بنیادی ذریعہ ہیں اور ان کے حقوق پر کسی قسم کی آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔ ان رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ تقسیم ہند کے بعد سے جو مہاجرین پاکستان اور دیگر علاقوں میں مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کر کے آئے ہیں، ان کی آواز کو اسمبلی میں بلند رکھنا انتہائی ضروری ہے۔
ادھر وفاقی سطح پر بھی اس معاملے پر ردعمل سامنے آیا ہے۔ مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما اور وفاقی وزیر خواجہ آصف نے ان عناصر کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے جو مہاجر نشستوں کو ختم کرنے یا ان کی حیثیت کو متنازع بنانے کی باتیں کر رہے ہیں۔ خواجہ آصف نے دوٹوک انداز میں کہا کہ مہاجر نشستیں آئینی اور سیاسی طور پر انتہائی اہم ہیں اور ان کو ختم کرنے کا کوئی بھی مطالبہ ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ مسلم لیگ ن مہاجرین کے حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور اس معاملے پر کسی بھی قسم کی سیاست کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
اس پورے تنازع نے آزاد کشمیر کے سیاسی منظر نامے کو گرما دیا ہے جہاں ایک طرف کابینہ میں نمائندگی نہ ملنے پر مہاجر نشستوں کے اراکین میں تشویش پائی جاتی ہے، وہیں دوسری طرف وفاقی رہنماؤں کی جانب سے ان نشستوں کے دفاع نے صورتحال کو نیا رخ دے دیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں اس معاملے پر مزید سیاسی گرما گرمی دیکھنے کو مل سکتی ہے کیونکہ مہاجرین کی سیاسی حیثیت اور ان کی نشستیں کشمیر کے مستقبل کے تناظر میں کلیدی اہمیت رکھتی ہیں۔