LIVE
Loading Breaking News...

آئی ایم ایف پابندیاں سستی بجلی کے راستے میں رکاوٹ: اویس لغاری

News Image
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی سخت شرائط اور پابندیوں کی وجہ سے صارفین کو دن کے وقت سستی بجلی فراہم کرنا ممکن نہیں ہو رہا۔ حکومت ملک میں صاف توانائی کے فروغ اور آئندہ برسوں میں قابل تجدید ذرائع سے بجلی کی پیداوار بڑھانے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔
اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس لغاری نے انکشاف کیا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی عائد کردہ سخت پابندیوں کی وجہ سے حکومت کے لیے یہ ممکن نہیں رہا کہ وہ صارفین کو دن کے اوقات میں سستی بجلی فراہم کر سکے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کے توانائی کے شعبے میں سستے اور متبادل ذرائع بالخصوص سولر انرجی کے استعمال میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ سولر پینلز کا بے تحاشا استعمال بغیر بیٹری سٹوریج کے طویل مدت میں پائیدار ثابت نہیں ہوگا۔ حکومت ملک میں صاف ستھری توانائی کے حصول کے لیے ایک جامع حکمت عملی پر کام کر رہی ہے جس کے تحت آنے والے برسوں میں کل بجلی کا نوے فیصد حصہ ماحول دوست ذرائع سے پیدا کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ دوسری جانب، توانائی کے ماہرین کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان میں اب اصل چیلنج بجلی کی پیداوار میں کمی نہیں بلکہ اسے محفوظ بنانے یعنی انرجی سٹوریج کا نظام تیار کرنا بن چکا ہے۔ حکومت اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر اقدامات کر رہی ہے تاکہ گرڈ سسٹم کو جدید بنایا جا سکے اور عوام کو سستی اور بلاتعطل بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔