World
ٹرمپ کی ایران کو دھمکی اور آبنائے ہرمز کی صورتحال
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتباہ جاری کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو بند رکھا گیا تو ایران کو سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اس پیشرفت کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز کو جلد نہیں کھولا گیا تو ایران کو بہت سخت نقصان پہنچایا جائے گا۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور تجارتی گزرگاہ کو بحال کرنے کے حوالے سے امریکی اور ایرانی حکام کے درمیان مبینہ بات چیت میں پیشرفت کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ واشنگٹن میں ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ اس اہم گزرگاہ کی بندش کو کسی صورت برداشت نہیں کرے گا اور بین الاقوامی تجارت کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھایا جائے گا۔ آبنائے ہرمز دنیا بھر کے لیے تیل کی ترسیل کا ایک انتہائی حساس اور اہم ترین راستہ ہے، جہاں سے تیل کے بڑے ٹینکرز گزرتے ہیں۔ اس سمندری راستے کی بندش یا اس میں رکاوٹ کے عالمی معیشت اور توانائی کے شعبے پر انتہائی گہرے اور منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب، اس صورتحال کے تناظر میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی واقع ہوئی ہے۔ اقتصادی ماہرین اور میڈیا رپورٹس کے مطابق گزشتہ چند روز کے دوران تیل کی قیمتوں میں سات فیصد تک کی گراوٹ دیکھی گئی ہے، جس کی بنیادی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کی امیدیں ہیں۔ وال اسٹریٹ جنرل، سی این بی سی اور دیگر بین الاقوامی اداروں کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ نامزد یا متعلقہ حکام کی جانب سے اس بات کے اشارے ملے ہیں کہ اس ہفتے کے اندر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے کوئی اہم سفارتی سمجھوتہ طے پا سکتا ہے۔ اس پیشرفت کے بعد عالمی منڈی میں سرمایہ کاروں نے کسی حد تک سکون کا سانس لیا ہے، کیونکہ تجارتی راستہ کھلنے سے توانائی کی فراہمی میں استحکام آنے کی توقع کی جا رہی ہے۔