LIVE
Loading Breaking News...

ور্ল্ড بینک: ترقی پذیر معیشتوں کے لیے اے آئی ایک لائف لائن

News Image
ور্ল্ড بینک کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق مصنوعی ذہانت ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے تاہم اس سے روزگار کے شعبے میں چیلنجز بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔ عالمی ادارے نے کم آمدنی والے ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ اے آئی کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔
عالمی بینک (ور্ল্ড بینک) کی جانب سے جاری کردہ ایک حالیہ بیان میں کہا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (AI) ابھرتی ہوئی معیشتوں اور ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک بڑی لائف لائن ثابت ہو سکتی ہے۔ عالمی ادارے کا ماننا ہے کہ بروقت اور درست پالیسیوں کے ذریعے اے آئی کا استعمال سال 2030 تک دنیا بھر کے ترقی پذیر خطوں میں معاشی اور کاروباری رجحانات کو یکسر بدل کر رکھ سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ٹیکنالوجی کی یہ لہر پیداواری صلاحیت کو بڑھانے اور طویل المدتی ترقی کی راہ ہموار کرنے کی زبردست صلاحیت رکھتی ہے۔ دوسری جانب ماہرین نے یہ انتباہ بھی جاری کیا ہے کہ اس تبدیلی کے نتیجے میں روایتی ملازمتوں کے ڈھانچے پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ پاکستان اور بھارت جیسے جنوبی ایشیائی ممالک کے تناظر میں، جہاں افرادی قوت کا ایک بڑا حصہ مختلف شعبوں سے وابستہ ہے، اے آئی کا فروغ ایک طرف جہاں اقتصادی ترقی کو مہمیز دے سکتا ہے وہیں دوسری طرف جاب مارکیٹ میں عارضی یا مستقل نوعیت کے تعطل کا باعث بھی بن سکتا ہے۔ ور্ল্ড بینک نے اس بات پر زور دیا ہے کہ حکومتیں اور نجی ادارے اس موقع کو ہاتھ سے نہ جانے دیں اور کم آمدنی والے ممالک میں ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی بہتری کے ساتھ ساتھ ہنر مند افرادی قوت تیار کرنے کے لیے فوری اقدامات کریں۔ عالمی ادارے کی اس رپورٹ کے بعد مختلف ممالک میں پالیسی سازوں نے اے آئی کے چیلنجز سے نمٹنے اور اس کے مثبت ثمرات کو عام کرنے کے لیے حکمت عملی بنانا شروع کر دی ہے۔