World
نائیجیریا میں اسکولوں کی حفاظت اور سیف اسکولز انیشیٹو کا مستقبل
نائیجیریا میں 'سیف اسکولز انیشیٹو' کو اس وقت تک مکمل کامیابی نہیں مل سکتی جب تک اسکولوں کی عمارتوں سے باہر موجود سکیورٹی کے بحران کو ختم نہیں کیا جاتا۔ ملک کے غیر محفوظ علاقوں میں بچوں اور اساتذہ کی حفاظت کے لیے فوری اور وسیع تر اقدامات کی اشد ضرورت ہے۔
نائیجیریا میں بچوں اور تعلیمی اداروں کی حفاظت کے لیے شروع کیا جانے والا 'سیف اسکولز انیشیٹو' اس وقت شدید مشکلات کا شکار ہو چکا ہے جب تک کہ ملک کے غیر محفوظ علاقوں اور کمیونٹیز میں مجموعی سکیورٹی کی صورتحال کو بہتر نہیں بنایا جاتا۔ ماہرین اور مبصرین کا ماننا ہے کہ صرف اسکول کی عمارتوں کے اندر حفاظتی اقدامات کرنا ناکافی ہے کیونکہ اسکول کی حدود سے باہر کا خطرہ طلباء اور اساتذہ کے لیے مسلسل ایک بڑا خطرہ بنا ہوا ہے۔
حالیہ برسوں کے دوران نائیجیریا کے مختلف حصوں بالخصوص دیہی اور دور دراز علاقوں میں مسلح گروہوں کی جانب سے اسکولوں کو نشانہ بنانے اور بچوں کے اغوا کے واقعات میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ ان حالات میں حکومت اور متعلقہ اداروں کی جانب سے اسکولوں کی چار دیواریاں بنانے یا ان کے اندر سکیورٹی گارڈز تعینات کرنے کے اقدامات اس وقت تک کارگر ثابت نہیں ہو سکتے جب تک راستوں اور قریبی آبادیوں میں امن و امان قائم نہیں کیا جاتا۔
رپورٹس کے مطابق، جب تک ریاست اسکولوں کے اردگرد موجود غیر محفوظ علاقوں کا کنٹرول حاصل نہیں کرتی اور دہشت گرد عناصر کے خلاف فیصلہ کن کارروائی عمل میں نہیں لاتی، والدین اپنے بچوں کو تعلیم کے حصول کے لیے بھیجنے سے کتراتے رہیں گے۔ تعلیمی ماہرین نے زور دیا ہے کہ حکومت کو اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لاتے ہوئے کمیونٹی لیول پر سکیورٹی کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ تعلیمی ادارے بغیر کسی خوف و خطر کے چل سکیں۔
اس صورتحال نے ملک کے تعلیمی نظام کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے اور ہزاروں بچوں کا مستقبل خطرے میں پڑ گیا ہے۔ نائیجیریا کی حکومت اور بین الاقوامی شراکت داروں کو اب مل کر ایک ایسا جامع لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا جو نہ صرف اسکول کی عمارتوں بلکہ اس کے اطراف کے پورے ماحول کو محفوظ بنا سکے، ورنہ 'سیف اسکولز انیشیٹو' جیسے اہم پروگرام اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہیں گے۔