LIVE
Loading Breaking News...

عبدال السید نے مشی گن سینیٹ پرائمری الیکشن جیت لیا

News Image
مشی گن میں سینیٹ کے ڈیموکریٹک پرائمری انتخابات میں ترقی پسند رہنما عبدال السید نے کامیابی حاصل کر لی ہے۔ انہوں نے ساٹھ ملین ڈالر سے زائد کے انتخابی اخراجات اور مخالفین کی شدید مہم کے باوجود یہ معرکہ سر کیا۔
امریکہ کی ریاست مشی گن میں سینیٹ کے ڈیموکریٹک پرائمری انتخابات کے دوران ایک بڑا سیاسی معرکہ دیکھنے میں آیا ہے جہاں ترقی پسند رہنما عبدال السید نے کامیابی اپنے نام کر لی ہے۔ معروف نشریاتی ادارے این بی سی کی پروجیکشن کے مطابق، عبدال السید نے اس انتخابی دوڑ میں کامیابی حاصل کرکے تمام سیاسی مبصرین کو حیران کر دیا ہے۔ انہوں نے اپنی اس مہم کے دوران سینیٹ کی نامزدگی کے حصول کے لیے فنڈنگ کے ریکارڈ اور مخالفین کی جانب سے خرچ کی جانے والی بھاری رقوم کا کامیابی سے مقابلہ کیا۔ اس انتخابی معرکے میں عبدال السید کو انتہائی سخت حریفوں کا سامنا تھا، جن میں پرو-اسرائیل کانگریس وومن ہیلی اسٹیوینس بھی شامل تھیں۔ اطلاعات کے مطابق، اس انتخابی مہم میں ساٹھ ملین ڈالر سے زائد کیش اور دیگر ذرائع سے فنڈز خرچ کیے گئے تھے تاکہ ترقی پسند ونگ کو روکا جا سکے، تاہم عبدال السید کے پرعزم حامیوں اور زمینی سطح پر کی گئی انتخابی مہم نے اس بھاری مالی برتری کو شکست دے دی۔ عبدال السید، جو کہ ایک طویل عرصے سے ترقی پسند نظریات اور فلاحی پالیسیوں کے حامی رہے ہیں، نے اس مہم کو عام لوگوں کی آواز قرار دیا۔ اس کامیابی کے بعد ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر ترقی پسند اور اعتدال پسند دھڑوں کے درمیان بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ عبدال السید کی یہ جیت امریکی سیاست میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب پارٹی کے اندر نوجوان اور ترقی پسند قیادت تیزی سے ابھر رہی ہے۔ انہوں نے انتخابی مہم کے دوران صحت عامہ، معاشی مساوات اور عام آدمی کے حقوق پر بھرپور توجہ مرکوز کی تھی، جس نے ووٹرز کی بڑی تعداد کو اپنی طرف متوجہ کیا۔ اب جب کہ عبدال السید نے پرائمری الیکشن میں فتح حاصل کر لی ہے، ان کا مقابلہ آئندہ عام انتخابات میں ریپبلکن امیدوار کے ساتھ ہوگا۔ اس سیاسی پیش رفت نے نہ صرف مشی گن کی سیاست میں ہلچل مچا دی ہے بلکہ قومی سطح پر بھی ڈیموکریٹک پارٹی کی مستقبل کی حکمت عملی پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ سیاسی حلقے اس نتائج کو نچلی سطح کی متحرک مہم اور نظریاتی سیاست کی بڑی فتح قرار دے رہے ہیں۔