LIVE
Loading Breaking News...

غزہ میں اشیاء کی دستیابی اور مہنگائی کا بحران

News Image
غزہ کی مارکیٹوں میں اشیاء خوردونوش کی واپسی کے باوجود بے گھر فلسطینیوں کو شدید مالی مشکلات کا سامنا ہے۔ مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے اور آمدنی کے ذرائع نہ ہونے کے برابر ہیں۔
غزہ کی پٹی میں اگرچہ کچھ مارکیٹوں میں اشیاء کی واپسی کا عمل دیکھنے میں آیا ہے، لیکن زمینی حقیقت یہ ہے کہ عام شہریوں اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کے لیے یہ اشیاء اب بھی ناقابل رسائی ہیں۔ جنگ اور محاصرے کے باعث خطے میں معاشی سرگرمیاں شدید طور پر درہم برہم ہو چکی ہیں، جس کی وجہ سے لوگوں کے پاس آمدنی کا کوئی باقاعدہ ذریعہ باقی نہیں بچا۔ روزگار کے مواقع نہ ہونے کے برابر ہیں اور جو لوگ روزانہ کی اجرت پر کام کرتے تھے، وہ اب بے روزگاری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔دوسری جانب، مارکیٹوں میں اشیاء کی قلت اور سپلائی چین میں شدید تعطل کی وجہ سے قیمتیں آسمان کو چھو رہی ہیں۔ غذای اشیاء، سبزیوں، اور بنیادی ضرورت کی دیگر چیزوں کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہو چکا ہے، جسے عام خاندان برداشت کرنے سے قاصر ہیں۔ بے گھر ہونے والے افراد جو عارضی خیموں یا پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور ہیں، ان کے پاس اپنے اہل خانہ کے لیے دو وقت کی روٹی کا بندوبست کرنے کے لیے بھی مالی وسائل موجود نہیں ہیں۔ بین الاقوامی امدادی تنظیموں اور انسانی حقوق کے اداروں نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے کہ غزہ میں صرف اشیاء کا مارکیٹ میں پہنچ جانا کافی نہیں ہے جب تک کہ عوام کی قوت خرید بہتر نہ ہو۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک معاشی بحالی، نقد رقم کی فراہمی اور اشیاء کی قیمتوں میں کمی کے لیے مؤثر اقدامات نہیں کیے جاتے، تب تک غزہ کے عوام اس سنگین انسانی اور معاشی بحران سے باہر نہیں نکل سکیں گے۔ مقامی آبادی روزانہ کی بنیاد پر زندہ رہنے کے لیے شدید جدوجہد کر رہی ہے اور صورتحال دن بہ دن ابتر ہوتی جا رہی ہے۔