LIVE
Loading Breaking News...

امریکی عدالت نے چھ جنوری کے آخری مقدمات خارج کر دیے

News Image
امریکہ میں ایک جج نے ناپسندیدگی کے باوجود چھ جنوری کے فسادات سے جڑے آخری استغاثہ کے مقدمات خارج کر دیے ہیں۔ اس عدالتی فیصلے کے بعد سیاسی اور قانونی حلقوں میں نئے مباحثے شروع ہو گئے ہیں۔
امریکہ میں ایک وفاقی جج نے چھ جنوری دو ہزار اکیس کو کیپیٹل ہل پر ہونے والے حملے اور فسادات سے جڑے آخری باقی ماندہ استغاثہ کے مقدمات کو باضابطہ طور پر خارج کر دیا ہے۔ یہ فیصلے قانونی اور عدالتی تاریخ میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتے ہیں، کیونکہ ان مقدمات کے خاتمے سے اس تاریخی واقعے کے قانونی ابواب اب تقریباً بند ہوتے نظر آ رہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ تمام کارروائیاں طویل عرصے سے عدالتوں میں زیر التواء تھیں اور متعلقہ جج نے مجبوری کے عالم میں ان آخری کیسز کو نمٹانے کا حکم صادر کیا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس عدالتی پیش رفت کے بعد ملک میں ایک بار پھر گرما گرم بحث چھڑ گئی ہے کہ آیا اس نوعیت کے بڑے واقعات کے ذمہ داروں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا دائرہ کار کس حد تک موثر رہنا چاہیے۔ قانونی ماہرین اس بات پر بحث کر رہے ہیں کہ آیا ان مقدمات کی برطرفی سے مستقبل میں سیاسی نوعیت کے ہنگاموں اور قانون شکنی کے واقعات کی روک تھام پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ بعض حلقوں کی جانب سے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے جبکہ دیگر اسے قانونی عمل کا ایک فطری تسلسل قرار دے رہے ہیں۔ واضح رہے کہ چھ جنوری کا واقعہ امریکی جمہوری تاریخ کے تاریک ترین ابواب میں شمار ہوتا ہے جب مش اشتعال ہجوم نے واشنگٹن میں کیپیٹل ہل کی عمارت پر دھاوا بول دیا تھا۔ اس دن کے بعد سے ہزاروں افراد کے خلاف مقدمات بنائے گئے اور سکیورٹی اداروں نے ملک بھر میں کارروائیاں کی تھیں۔ اب جبکہ آخری استغاثہ کے مقدمات بھی خارج کر دیے گئے ہیں، تو یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ کیا اس فیصلے سے ریاست اور عدلیہ کا قانون نافذ کرنے کا عزم کمزور ہوگا یا پھر یہ عدالتی نظام کی اپنی مجبوریوں اور تقاضوں کا عکاس ہے۔