World
ٹرمپ کی ایران کو آبنائے ہرمز کھولنے یا سخت حملے کی دھمکی
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو انتباہ جاری کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھول دے بصورت دیگر اسے انتہائی سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔ دریں اثنا، ذرائع کے مطابق واشنگتن، تہران اور عمان کے درمیان اس اہم تجارتی راستے کو بحال کرنے کے لیے ایک عارضی معاہدے پر بات چیت آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کو واضح طور پر خبردار کیا ہے کہ وہ عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم سمندری گزرگاہ آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھول دے بصورت دیگر اسے انتہائی سخت فوجی حملوں کا سامنا کرنا ہوگا۔ صدر ٹرمپ نے کیلیفورنیا میں نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس راستے کو جلد از جلد کھول دیا جائے گا اور مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس معاملے پر کوئی معاہدہ جلد طے پا سکتا ہے۔ دوسری جانب امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ کا کہنا ہے کہ اس ہفتے کے وسط تک کسی معاہدے پر پہنچنے کا امکان موجود ہے۔
اس کشیدہ صورتحال کے دوران عالمی خبر رساں اداروں اور امریکی میڈیا کی رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ امریکہ، ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے ایک عارضی اور 60 روزہ امن معاہدے کے حوالے سے بات چیت جاری ہے۔ قطر اس معاملے میں ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے اور سفارتی کوششیں عروج پر ہیں۔ تاہم ایرانی وزارت خارجہ نے واشنگتن کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی تردید کی ہے جبکہ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ عمان کے توسط سے تہران کے ساتھ رابطے جاری ہیں تاکہ خطے میں کشیدگی کو کم کیا جا سکے اور تیل کی ترسیل بحال ہو۔
خطے میں موجود کشیدگی کے اثرات سمندری تجارت پر بھی پڑ رہے ہیں جہاں حال ہی میں آبنائے ہرمز میں ایک تجارتی بحری جہاز پر نامعلوم پراجیکٹائل حملے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں جس کے بعد ایک عملے کا رکن لاپتہ ہو گیا۔ علاوہ ازیں، بحیرہ احمر میں بھی ایک ہندوستانی جہاز حملے کے نتیجے میں ڈوب گیا ہے تاہم عملے کو بحفاظت بچا لیا گیا۔ یہ تمام واقعات اس بات کی غمازی کرتے ہیں کہ مشرق وسطیٰ میں سمندری گزرگاہیں انتہائی خطرے سے دوچار ہیں اور عالمی معیشت کے لیے خطرات منڈلا رہے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو امریکہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ مل کر ایران کے خلاف انتہائی سخت قدم اٹھائے گا۔ واشنگتن کے اہم مطالبات میں آبنائے ہرمز کی مکمل بحالی اور ایران کا جوہری پروگرام ترک کرنا شامل ہے۔ دوسری طرف ایران نے بھی آبنائے ہرمز میں اپنی موجودگی کو سخت کرتے ہوئے بحری جہازوں کے گزرنے کے ضوابط پر عمل درآمد شروع کر رکھا ہے، جس سے عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی کے حوالے سے شدید خدشات پائے جاتے ہیں۔