LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان اور ویسٹ انڈیز ٹیسٹ: پاکستان کی فتح کی امیدیں روشن

News Image
پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان کھیلے جانے والے دوسرے اور آخری ٹیسٹ کے تیسرے دن پاکستانی اسپنرز نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے میزبان ٹیم کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔ عبداللہ شفیق کی شاندار ناقابل شکست اننگز کی بدولت پاکستان نے پہلی اننگز میں برتری حاصل کی جبکہ ساجد خان اور علی عثمان کی نپی تلی بولنگ نے ویسٹ انڈیز کے 6 کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھا دی۔
ٹرینیڈاڈ میں کھیلے جا رہے دوسرے اور آخری ٹیسٹ میچ کے تیسرے دن پاکستانی اسپنرز نے اپنی شاندار بولنگ کے جوہر دکھاتے ہوئے ٹیم کو سیریز برابر کرنے کی پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے۔ دن کے اختتام پر ویسٹ انڈیز کی ٹیم اپنی دوسری اننگز میں 6 وکٹوں کے نقصان پر 103 رنز بنا چکی تھی اور اسے پاکستان پر محض 60 رنز کی برتری حاصل تھی۔ پچ پر اسپنرز کے لیے زبردست ٹرن اور غیر یقینی باؤنس موجود ہے جس کا پاکستانی اسپنرز نے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ اس سے قبل، پاکستان نے اپنی پہلی اننگز میں 387 رنز بنائے جس میں اوپنر عبداللہ شفیق کی شاندار اور صبر آزما 160 رنز کی ناقابل شکست اننگز مرکزی حیثیت رکھتی تھی۔ عبداللہ شفیق نے ساڑھے سات گھنٹے سے زائد crease پر قیام کیا اور 323 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے 15 چوکوں اور 3 ছکوں کی مدد سے ٹیم کو ایک مضبوط مجموعے تک پہنچایا۔ تاہم، پاکستان کی اننگز میں بابر اعظم کے رن آؤٹ کے بعد ایک غیر متوقع زوال دیکھنے میں آیا اور آخری آٹھ وکٹیں محض 106 رنز کے اضافے پر گر گئیں۔ ویسٹ انڈیز کے بائیں ہاتھ کے اسپنر جومেল واریکن نے شاندار بولنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 112 رنز کے عوض 6 کھلاڑیوں کو آؤٹ کیا۔ دوسری اننگز میں پاکستانی اسپنرز نے میزبان ٹیم پر دباؤ برقرار رکھا۔ ساجد خان نے شاندار بولنگ کرتے ہوئے 4 اہم وکٹیں حاصل کیں جبکہ علی عثمان نے دو کھلاڑیوں کو پویلین کی راہ دکھائی، جس میں ویسٹ انڈین کپتان روسٹن چیس کی آخری گیند پر ہونے والی وکٹ بھی شامل تھی۔ ویسٹ انڈیز کے لیے جسٹن گریوز چوتھے دن کے آغاز پر کریز پر موجود ہوں گے جبکہ برانڈنگ کنگ کی انجری کے باعث بیٹنگ کے لیے دستیابی مشکوک ہے۔ پاکستانی ٹیم میچ کے چوتھے دن اس برتری کو سمیٹتے ہوئے سیریز اپنے نام کرنے کے لیے پرامید ہے۔