LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں چھوٹے انتظامی یونٹس اور مصنوعی ذہانت کا کردار

News Image
پاکستان میں سیاسی جماعتیں کبھی بھی خود بخود مضبوط بلدیاتی نظام یا مقامی حکومتیں قائم نہیں کرنا چاہتیں کیونکہ یہ ان کی مرکزیت کے لیے خطرہ بنتی ہیں۔ موجودہ بحران سے نمٹنے کے لیے اب انتظامی بنیادوں پر چھوٹے یونٹس کا قیام وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔
پاکستان کی سیاسی تاریخ کا ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ تمام بڑی سیاسی جماعتیں بظاہر جمہوریت اور نچلی سطح پر اختیارات کی منتقلی کی بات تو کرتی ہیں مگر عملی طور پر وہ مقامی حکومتوں کو بااختیار دیکھنے کی روادار نہیں۔ ہر دور میں، ہر صوبے اور ہر جماعت کے تحت یہ دیکھا گیا ہے کہ بلدیاتی اداروں کو یا تو تاخیر سے تشکیل دیا جاتا ہے، انہیں ناکافی فنڈز دیے جاتے ہیں یا پھر ان کے انتظامی اختیارات سلب کر کے انہیں وقت سے پہلے تحلیل کر دیا جاتا ہے۔ اس متواتر اور یکساں رویے سے یہ واضح ہوتا ہے کہ یہ کوئی انتظامی نااہلی نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہے جس کا مقصد صوبائی دارالحکومت سے کنٹرول ہونے والی روایتی سیاست کو برقرار رکھنا ہے۔ ایک فعال مقامی حکومت ہمیشہ مرکز یا صوبے کے لیے ایک متبادل طاقت کا مرکز بن جاتی ہے، جو فنڈز، عملے اور عوامی خدمات کی فراہمی کے ذریعے سیاسی حلقے تشکیل دینے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ صوبائی سطح کی سیاسی مشینری جو سڑکوں کی تعمیر، نوکریوں اور ٹھیکوں کی تقسیم پر انحصار کرتی ہے، مقامی حکومتوں کو اپنے وجود کے لیے خطرہ سمجھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بلدیاتی اداروں کو محض آئینی ضرورت پوری کرنے والا ایک ڈھانچہ بنا کر رکھا جاتا ہے جو کسی بھی حقیقی چالش سے عاری ہو۔ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان میں جب بھی مقامی حکومتیں فعال ہوئی ہیں، ان کے پیچھے کوئی جمہوری جماعت نہیں بلکہ یا تو فوجی حکومتیں تھیں یا عدالتی احکامات تھے جنہیں بعد میں سیاست دانوں نے غیر مؤثر کر دیا۔ عام شہری کی روزمرہ کی ضروریات اس سیاسی رسہ کشی کا انتظار نہیں کر سکتیں۔ سیوریج کا نظام، اسکولوں کی حالت، بنیادی دستاویزات کے حصول کے لیے دور دراز شہروں کا سفر اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے چیلنجز ایسے امور ہیں جنہیں موجودہ বিশাল صوبائی ڈھانچے کے تحت حل نہیں کیا جا سکتا۔ چار بڑے صوبوں اور کمزور مقامی سطح پر مشتمل یہ نظام اب عوام کے تقاضے پورے کرنے سے قاصر ہے۔ اس کا واحد حل یہ ہے کہ چھوٹے انتظامی یونٹس بنائے جائیں جو نسلی یا لسانی بنیادوں پر نہیں بلکہ خالصتاً انتظامی، آبادیاتی اور جغرافیائی بنیادوں پر استوار ہوں۔ بیسویں صدی کے اس دور میں مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل سروس ڈیلوری اور ریئل ٹائم ڈیٹا پلیٹ فارمز نے چھوٹے پیمانے پر مؤثر گورننس کے اخراجات اور مشکلات کو انتہائی کم کر دیا ہے۔ اے آئی پر مبنی سسٹمز کے ذریعے شہریوں کے مسائل کی فوری شنوائی اور وسائل کی شفاف تقسیم ممکن ہو چکی ہے، بشرطیکہ ریاست روایتی سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر جدید تقاضوں کے مطابق اپنی داخلی ساخت کو ڈھالنے کا حوصلہ پیدا کرے۔