LIVE
Loading Breaking News...

پاک امریکہ انسداد دہشت گردی مذاکرات: ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کیخلاف تعاون کا عزم

News Image
واشنگٹن میں پاک امریکہ چوتھے انسداد دہشت گردی مذاکرات کے دوران دونوں ممالک نے شدت پسند تنظیموں کے خلاف مشترکہ لائحہ عمل اپنانے پر اتفاق کیا۔ فریقین نے خطے میں امن و امان کے قیام کے لیے انٹیلی جنس تعاون مزید بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
واشنگٹن میں پاکستان اور امریکہ کے درمیان چوتھے انسداد دہشت گردی مذاکرات کامیابی کے ساتھ منعقد ہوئے ہیں جن میں دونوں ممالک نے خطے سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے اپنی مشترکہ کوششیں مزید تیز کرنے کا اعادہ کیا ہے۔ ملاقات کے دوران دونوں فریقین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)، بلوچستان لبریشن آرمی (بی ایل اے) اور دیگر تمام دہشت گرد تنظیمیں خطے کے امن اور سلامتی کے لیے ایک سنگین خطرہ ہیں، جن سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون ناگزیر ہے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق واشنگٹن میں ہونے والے ان مذاکرات میں دونوں ممالک کے اعلیٰ عسکری اور سفارتی حکام نے شرکت کی، جہاں سکیورٹی چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے لیے طویل المدتی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ مذاکرات کا بنیادی فوکس سرحدی سکیورٹی، انٹیلی جنس شیئرنگ اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کو روکنے کے مؤثر اقدامات پر رہا۔ فریقین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ خطے میں کسی بھی دہشت گرد گروہ کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے زمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ پاکستانی وفد نے امریکہ کے سامنے اپنی سکیورٹی خدشات کھل کر رکھے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی لازوال قربانیوں کا ذکر کیا۔ دوسری جانب، امریکی حکام نے خطے میں امن و استحکام کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف اس کی مہم میں مسلسل تعاون فراہم کرنے کا یقین دلایا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، موجودہ جغرافیائی سیاسی صورتحال میں پاک امریکہ انسداد دہشت گردی مذاکرات دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور خطے کو پرامن بنانے کی سمت ایک اہم سنگ میل ثابت ہوں گے۔ دونوں حکومتوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس نوعیت کے مشاورتی عمل کو مستقبل میں بھی باقاعدگی سے جاری رکھا جائے گا تاکہ ابھرتے ہوئے خطرات کا بر وقت اور مؤثر سدباب کیا جا سکے۔