LIVE
Loading Breaking News...

بلوچستان میں ایچیسن اور لارنس کالج کے طرز پر جدید تعلیمی ادارے کا قیام

News Image
حکومتِ بلوچستان نے وزیرِ اعلیٰ کی ہدایت پر صوبے میں ایچیسن اور لارنس کالج کے طرز پر جدید رہائشی تعلیمی ادارہ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس منصوبے کے لیے سرکاری ملازمین سے رضاکارانہ طور پر ماہانہ ایک ہزار روپے تعاون کی درخواست کی گئی ہے۔
حکومتِ بلوچستان نے صوبے میں معیاری تعلیم کے فروغ اور طلبہ کو اعلیٰ ترین رہائشی تعلیمی سہولیات فراہم کرنے کے لیے ایک انتہائی اہم اور تاریخی اقدام کا آغاز کر دیا ہے۔ وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کی خصوصی ہدایت پر صوبے میں ملک کے نامور اداروں یعنی ایچیسن کالج اور لارنس کالج کے طرز پر ایک جدید رہائشی (بورڈنگ) اسکول و کالج کے قیام کے منصوبے پر تیزی سے کام شروع کر دیا گیا ہے۔ اس عظیم الشان تعلیمی منصوبے کا مقصد بلوچستان کے ہونہار طلبہ کو ان کی دہلیز پر بہترین تعلیمی اور تدریسی ماحول فراہم کرنا ہے تاکہ وہ ملکی و بین الاقوامی سطح پر صوبے اور ملک کا نام روشن کر سکیں۔ اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے اور مالی معاونت کے لیے حکومت نے ایک منفرد اور قابلِ تحسین طریقۂ کار اپنایا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے بی ایس 17 سے لے کر بی ایس 21 تک کے تمام سرکاری ملازمین سے ماہانہ ایک ہزار روپے کا رضاکارانہ تعاون طلب کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں تمام متعلقہ محکموں کے سربراہان کو سخت ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ اپنے ماتحت ملازمین کی رضا مندی حاصل کریں اور اس کارروائی کو فوری طور پر مکمل کریں۔ حکومت نے تمام محکموں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس حوالے سے ضروری کاغذی کارروائی مکمل کر کے آئندہ پانچ روز کے اندر اپنی مفصل رپورٹ حکومت کو ارسال کریں تاکہ منصوبے پر مزید پیش رفت کی جا سکے۔ تعلیمی ادارے کی عمارت اور دیگر سہولیات کے لیے وسیع رقبے کی ضرورت کے پیشِ نظر منصوبے کے لیے پچاس ایکڑ اراضی فراہم کرنے کی تجویز بھی اس وقت زیرِ غور ہے۔ زمین کے اس حصول سے نہ صرف اکیڈمک بلاکس بلکہ طلبہ کے لیے ہاسٹلز، کھیل کے میدان اور دیگر تفریحی و سائنسی سہولیات کی تعمیر کو یقینی بنایا جائے گا۔ علاوہ ازیں، اس پورے منصوبے میں بہترین رابطہ کاری، کوآرڈینیشن اور انتظامی امور کو موثر انداز میں چلانے کے لیے سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ (S&GAD) کی جانب سے ایک فوکل پرسن بھی باضابطہ طور پر مقرر کر دیا گیا ہے جو تمام امور کی نگرانی کرے گا۔ حکومتی حلقوں اور ماہرینِ تعلیم کا ماننا ہے کہ یہ اقدام بلوچستان کی تعلیمی تاریخ میں ایک سنگِ میل ثابت ہوگا۔ اس منصوبے سے نہ صرف تعلیمی معیار بلند ہوگا بلکہ پسماندہ علاقوں کے طلبہ کو بھی ملک کے نامور تعلیمی اداروں جیسی سہولیات میسر آئیں گی۔ حکومتِ بلوچستان کے اس بلند بانگ تعلیمی ویژن سے یہ امید پیدا ہو گئی ہے کہ آنے والے برسوں میں صوبے کے نوجوان جدید تقاضوں سے ہم آہنگ ہو کر پاکستان کی ترقی میں بھرپور کردار ادا کریں گے۔