LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان اور امریکہ کا انسداد دہشت گردی مذاکرات میں مشترکہ عزم

News Image
پاکستان اور امریکہ نے انسداد دہشت گردی کے مذاکرات کے دوران تمام دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مشترکہ اقدامات کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک نے سرحد پار سیکیورٹی کو مضبوط بنانے اور دہشت گردوں کے معاون نیٹ ورکس کو ختم کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔
اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان انسداد دہشت گردی کے حوالے سے ایک اہم مذاکراتی دور منعقد ہوا جس میں دونوں ملکوں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اس اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران پاکستان اور امریکہ نے خطے میں امن و امان کی صورتحال کا جائزہ لیا اور تمام دہشت گرد تنظیموں کے خلاف مشترکہ طور پر نبرد آزما ہونے کے پختہ عزم کا اعادہ کیا ہے۔ فریقین نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی عالمی برادری کے لیے ایک مشترکہ خطرہ ہے جس سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون کو مزید فروغ دینا ناگزیر ہے۔ مذاکرات کے دوران دونوں ممالک کے نمائندوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ دہشت گردوں کے مالی معاون نیٹ ورکس اور ان کی پناہ گاہوں کے خاتمے کے لیے مربوط کوششیں کی جانی چاہئیں۔ امریکی حکام نے اس موقع پر پاکستان کی قربیوں کا اعتراف کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ سرحدوں کے اندر موجود دہشت گرد عناصر کے خلاف موثر اور فیصلہ کن کارروائیاں جاری رکھی جائیں تاکہ خطے میں پائیدار امن کو یقینی بنایا جا سکے اور معاشی ترقی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ، پاکستان اور امریکہ نے باہمی سیکیورٹی پارٹنرشپ اور بارڈر سیکیورٹی کو مضبوط بنانے کے امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ اجلاس میں طے پایا کہ انٹیلی جنس شیئرنگ کے نظام کو مزید بہتر بنایا جائے گا تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے سے بروقت نمٹا جا سکے۔ دونوں ملکوں کے درمیان اس نوعیت کے مذاکرات اس بات کا غماز ہیں کہ دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے لیے مشترکہ سفارتی اور سیکیورٹی کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔