LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ ایران جنگ، دبئی جبل علی پر حملہ اور تازہ ترین جیو پولیٹیکل صورتحال

News Image
امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ ہو چکا ہے جس کے نتیجے میں خطے میں جنگی صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ حوثیوں کی طرف سے دبئی کے اہم جبل علی صنعتی علاقے کو نشانہ بنایا گیا ہے جہاں دھماکے اور آگ لگنے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
امریکہ، ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازعہ اب ایک انتہائی خطرناک اور تشویشناک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جس کی وجہ سے پورے مشرق وسطیٰ میں جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں۔ جیو پولیٹیکل مانیٹر رپورٹس کے مطابق اس کشیدگی میں 'ایسکیلیٹری ڈیجا وو' کی کیفیت پیدا ہو چکی ہے یعنی پرانے بحران ایک نئے اور زیادہ ہولناک انداز میں دوبارہ سر اٹھا رہے ہیں۔ حالیہ پیش رفت میں یمن کے حوثی گروپ نے متحدہ عرب امارات کے اہم تجارتی مرکز دبئی کے جبل علی صنعتی علاقے پر مبینہ طور پر حملہ کر دیا ہے، جس کے بعد وہاں زور دار دھماکے سنے گئے اور بڑے پیمانے پر آگ لگنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ اس حملے نے خطے میں مقیم لاکھوں غیر ملکیوں اور یو اے ای کے رہائشیوں کے لیے بھی ایک نئی اضطرابی صورتحال پیدا کر دی ہے۔ دبئی حکام اور سیکیورٹی ادارے صورتحال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاکہ شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے اور کسی بھی ممکنہ بڑے نقصان کو روکا جا سکے۔ عالمی سطح پر ماہرین کا ماننا ہے کہ اس تنازعے کا دائرہ کار اب صرف ایران اور اسرائیل تک محدود نہیں رہا بلکہ خلیجی ریاستیں بھی اس کی زد میں آ رہی ہیں، جس سے عالمی معیشت اور توانائی کی سپلائی لائنز کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ انسٹی ٹیوٹ فار دی اسٹڈی آف وار کی خصوصی رپورٹس میں بھی خبردار کیا گیا ہے کہ اگر اس مسلح تصادم کو جلد سفارتی سطح پر نہ روکا گیا تو یہ پورے خطے کو ایک بڑی تباہی کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ خطے کے ممالک اور بین الاقوامی برادری فوری جنگ بندی اور کشیدگی میں کمی کے لیے سفارتی کوششیں تیز کرنے کی ضرورت پر زور دے رہی ہے تاکہ مزید جانی و مالی نقصان سے بچا جا سکے۔