World
آبِ ہرمز کشیدگی: عالمی توانائی اور صنعتی تجارت متاثر
آبِ ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں پر حملوں اور بڑھتی ہوئی سکیورٹی کشیدگی کے نتیجے میں عالمی توانائی، کھاد اور صنعتی سامان کی سپلائی لائن شدید متاثر ہوئی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں تیل بردار جہازوں کو لاحق خطرات نے حالیہ بحران کو انتہائی سنگین بنا دیا ہے۔
آبِ ہرمز میں حالیہ سکیورٹی بحران اور بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی کے نتیجے میں عالمی توانائی، کھاد اور صنعتی تجارت کو شدید دھچکا لگا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، اس اہم سمندری گزرگاہ پر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد بین الاقوامی سطح پر تجارتی سرگرمیاں شدید تعطل کا شکار ہو گئی ہیں، جس سے دنیا بھر میں سپلائی چین کے متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
ماہرینِ معاشیات اور بین الاقوامی امور کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں تیل بردار جہازوں کو درپیش خطرات حالیہ کشیدگی کے آغاز کے بعد سے اب تک کی بدترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ اس صورتحال نے نہ صرف عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی ترسیل کو غیر یقینی بنا دیا ہے بلکہ زرعی شعبے کے لیے انتہائی اہم سمجھی جانے والی کھادوں اور دیگر صنعتی اشیا کی تجارت کو بھی شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
حالیہ دنوں میں آبِ ہرمز کے قریب ایک کارگو اور بلک کیریئر جہاز پر میزائل یا پراجیکٹائل لگنے کی اطلاعات بھی سامنے آئی ہیں، جس کے بعد میری ٹائم سکیورٹی کے اداروں نے ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی اور عسکری محاذ آرائی کے باعث جہاز رانی کمپنیوں نے اپنی نقل و حرکت محدود یا عارضی طور پر معطل کرنا شروع کر دی ہے۔
عالمی رہنماؤں اور تجارتی اداروں نے صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر اس سمندری گزرگاہ کو فوری طور پر محفوظ نہ بنایا گیا تو اس کے عالمی معیشت پر انتہائی منفی اور دور رس اثرات مرتب ہوں گے۔ حکومتیں اور متعلقہ ادارے بحران پر قابو پانے اور تجارتی بحری جہازوں کی بحفاظت آمدورفت کو یقینی بنانے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر لائحہ عمل تیار کر رہے ہیں۔