Business
حکومت کا نیا پنشن سسٹم اور فنڈ مینیجرز سے معاہدے
حکومت پاکستان نے مالیاتی اصلاحات کے تحت نئے ڈیفائنڈ کنٹری بیوشن پنشن سسٹم کا باقاعدہ آغاز کرتے ہوئے پنشن فنڈ مینیجرز کے ساتھ اہم معاہدے طے کر لیے ہیں۔ اس نئے نظام کے ذریعے ملکی معیشت پر بڑھتے ہوئے پنشن کے بوجھ کو کم کرنے اور شفافیت لانے میں مدد ملے گی۔
اسلام آباد: حکومت پاکستان نے ملکی معیشت کو طویل المدتی استحکام فراہم کرنے اور بڑھتے ہوئے مالیاتی دباؤ کو کم کرنے کے لیے ایک اہم فیصلہ کرتے ہوئے نئے پنشن نظام کا نفاذ کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں حکومت نے باضابطہ طور پر پنشن فنڈ مینیجرز کے ساتھ اہم معاہدوں پر دستخط کر دیے ہیں، جس کا مقصد پنشن کے نظام کو زیادہ جدید، مستحکم اور شفاف بنانا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس نئے اقدام کو 'دی پینشن ٹائم بم' جیسے معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک ناگزیر قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
نئے نظام کے تحت حکومت نے مجموعی طور پر سولہ (16) پنشن فنڈ مینیجرز کی منظوری دی ہے جو اس نئے ڈیفائنڈ کنٹری بیوشن پنشن سسٹم کے تحت فنڈز کا انتظام سنبھالیں گے۔ اس سے قبل روایتی پنشن سسٹم کے تحت قومی خزانے پر پنشن کی ادائیگیوں کا جو بوجھ پڑ رہا تھا، وہ معاشی ترقی کے راستے میں ایک بڑی رکاوٹ سمجھا جا رہا تھا۔ ماہرین اقتصادیات کا ماننا ہے کہ اس نئے نظام کے نفاذ سے حکومتی اخراجات میں نمایاں کمی واقع ہوگی اور فنڈز کی بہتر مینجمنٹ ممکن ہو سکے گی۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس اصلاحاتی عمل کا بنیادی مقصد مستقبل میں پنشن کے واجبات کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنانا ہے جبکہ اس سے سرمایہ کاری کے نئے مواقع بھی پیدا ہوں گے۔ وفاقی حکومت اس معاشی اصلاحاتی ایجنڈے پر تیزی سے عمل پیرا ہے تاکہ ملک کے مالیاتی نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جا سکے۔ نئے پنشن فنڈ مینیجرز کی تقرری کے بعد اب اس سسٹم کو ملک بھر میں بتدریج نافذ کیا جائے گا جس سے ملازمین کے مستقبل کو بھی محفوظ بنایا جا سکے گا۔