Entertainment
فلم دی ممی کے اشتہار پر لندن انڈر گراؤنڈ میں پابندی
لندن کی انڈر گراؤنڈ ٹرین نیٹ ورک میں ہدایتکار لی کرونن کی ہارر فلم ’دی ممی‘ کے پوسٹرز پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ ان پوسٹرز میں ایک مردہ بچے کی تصویر دکھائی گئی تھی جسے حکام نے ضرورت سے زیادہ حقیقی قرار دیا۔
لندن کی پبلک ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے ہدایتکار لی کرونن کی آنے والی ہولناک ہارر فلم ’دی ممی‘ کے اشتہارات کو لندن انڈر گراؤنڈ میں لگانے پر باضابطہ پابندی عائد کر دی ہے۔ اس فیصلے کے پیچھے بنیادی وجہ ان پوسٹرز میں استعمال ہونے والا وہ گرافک اور متنازعہ بصری مواد ہے جس میں ایک مردہ بچے کو انتہائی حقیقت پسندانہ انداز میں دکھایا گیا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ تصاویر عام مسافروں، خاص طور پر بچوں اور حساس دل افراد کے لیے ناقابل برداشت حد تک خوفناک اور پریشان کن تھیں۔
ذرائع کے مطابق فلم کے اس تشہیری مہم کا مقصد عوام میں خوف اور سنسنی پھیلانا تھا تاکہ فلم کے لیے زیادہ سے زیادہ پبلسٹی حاصل کی جا سکے، تاہم اشتہارات کے معیارات کا جائزہ لینے والے اداروں کو اس پر شدید تحفظات تھے۔ مسافروں کی جانب سے بھی شکایت موصول ہوئی تھی کہ یہ پوسٹرز ٹرین اسٹیشنوں اور پلیٹ فارمز پر گزرنے والے لوگوں کے لیے صدمے کا باعث بن رہے ہیں۔ اسی تناظر میں ٹرانسپورٹ حکام نے ہنگامی بنیادوں پر کارروائی کرتے ہوئے تمام متعلقہ اسٹیشنوں سے ان اشتہارات کو فوری طور پر ہٹانے کے احکامات جاری کر دیے۔
فلم سازوں اور پروڈکشن ہاؤس کی جانب سے تاحال اس پابندی پر کوئی تفصیلی ردعمل سامنے نہیں آیا، لیکن فلمی حلقوں میں اس موضوع پر بحث شروع ہو چکی ہے کہ ہارر جنرا کی تشہیر میں اخلاقی اور بصری حدود کہاں تک ہونی چاہئیں۔ ناقدین کا ماننا ہے کہ اگرچہ ہارر فلموں کی مارکیٹنگ کے لیے خوف کا عنصر ضروری سمجھا جاتا ہے، لیکن عوامی مقامات جیسے کہ سب وے اسٹیشنوں پر اس طرح کے خوفناک مناظر دکھانا ضابطہ اخلاق کے خلاف ہے۔ فلم ’دی ممی‘ اس پابندی کے بعد خبروں کی زینت بن گئی ہے اور اس متنازعہ واقعے نے فلم کی ریلیز سے قبل ہی سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔