Technology
مصنوعی ذہانت اور عالمی فیصلہ سازی کا بحران
مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے جنون نے دنیا بھر میں کارپوریٹ اور سیاسی سطح پر فیصلہ سازی کے روایتی طریقوں کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی سوچ کی بجائے خودکار سسٹمز پر زیادہ انحصار مستقبل میں بڑے بحرانوں کا باعث بن سکتا ہے۔
نکل سसुरیش کے لکھے گئے ایک حالیہ اور دلچسپ مضمون میں اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ کس طرح مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کا موجودہ جنون دنیا بھر میں فیصلہ سازی کی صلاحیتوں کو کمزور کر رہا ہے۔ ایک بیرون ملک دورے کے دوران، مصنف کو ایک نامور فارچیون 500 کمپنی کے اعلیٰ ایگزیکٹو سے ملاقات کا موقع ملا، جنھوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ کارپوریٹ سیکٹر اب طویل المدتی حکمت عملیوں کے لیے اندھا دھند ٹیکنالوجی پر انحصار کر رہا ہے۔ یہ رجحان نہ صرف کاروباری دنیا بلکہ اجتماعی سوچ کی صلاحیت کو بھی متاثر کر رہا ہے۔ جدید دور میں یہ مانا جا رہا ہے کہ مصنوعی ذہانت تمام مسائل کا حل ہے، لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ جب اہم ترین فیصلے انسانوں کے بجائے الگورتھم کے حوالے کیے جاتے ہیں، تو اس میں اخلاقی اور سماجی زاویے نظر انداز ہو جاتے ہیں۔ کسی بھی بڑی تنظیم یا ادارے کی کامیابی کے لیے انسانی فہم، تجربہ اور تخلیقی صلاحیت بنیادی اہمیت رکھتی ہے، جن کا متبادل کوئی مشین کبھی نہیں بن سکتی۔ مضمون میں مزید بتایا گیا ہے کہ بہت سے ادارے بغیر سوچے سمجھے اے آئی کے اس ٹرینڈ کا حصہ بن رہے ہیں۔ اس اندھی دوڑ کا سب سے بڑا نقصان یہ ہو رہا ہے کہ روایتی تنقیدی سوچ اور مسائل کو حل کرنے کی فطری صلاحیت آہستہ آہستہ زوال پذیر ہو رہی ہے۔ اگر عالمی رہنما اور کارپوریٹ ادارے اس صورتحال پر قابو پانے کے لیے فوری طور پر متوازن لائحہ عمل اختیار نہیں کرتے، تو مستقبل میں عالمی سطح پر فیصلوں کے نتائج انتہائی تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ٹیکنالوجی کو معاون کے طور پر استعمال کیا جائے نہ کہ تمام اختیارات اسے سونپ دیے جائیں۔