Technology
اسپیس ایکس کے شیئرز گرے، اے آئی پر بھاری اخراجات کا اعلان
اسپیس ایکس کی پہلی مالیاتی رپورٹ سامنے آنے کے بعد سرمایہ کاروں کی طرف سے مخلوط ردعمل سامنے آیا ہے اور شیئرز میں کمی دیکھی گئی ہے۔ ایلن مسک نے سرمایہ کاروں کو یقین دلایا ہے کہ لوگ ان کی کمپنی کی حقیقی صلاحیتوں کو کم سمجھ رہے ہیں۔
معروف خلائی تحقیقاتی اور ٹیکنالوجی کمپنی اسپیس ایکس کے شیئرز میں حالیہ مالیاتی رپورٹ کے منظر عام پر آنے کے بعد بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ پیشرفت اس وقت سامنے آئی جب کمپنی کی جانب سے اپنی پہلی باضابطہ کمائی کی رپورٹ جاری کی گئی جس میں مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے شعبے پر بھاری بھرکم سرمایہ کاری کرنے کے منصوبوں کا انکشاف کیا گیا ہے۔ اس مالیاتی رپورٹ کے بعد تجارتی منڈی میں ہلچل مچ گئی اور سرمایہ کاروں نے مخلوط جذبات کا اظہار کیا۔
کمپنی کے بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر ایلن مسک نے اس صورتحال پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سرمایہ کاروں کو مخاطب کیا اور کہا کہ لوگ اور تجزیہ کار ان کی کمپنی کی صلاحیتوں کو کم سمجھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسپیس ایکس صرف ایک راکٹ بنانے والی کمپنی نہیں ہے بلکہ یہ مستقبل کی ٹیکنالوجیز خاص طور پر مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بھی انقلابی تبدیلیاں لانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے، جس کے لیے طویل المدتی اور بڑی سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق، اگرچہ اسپیس ایکس کا خلائی مشن اور سٹار لنک کا منصوبہ انتہائی منافع بخش ثابت ہو رہا ہے، تاہم مصنوعی ذہانت کے منصوبوں پر اتنے بڑے پیمانے پر فنڈز خرچ کرنے سے قلیل مدت میں شیئنرز ہولڈرز کو خدشات لاحق ہو گئے ہیں۔ اس کے باوجود ایلن مسک کے پرامید بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ مستقبل کی حکمت عملی پر مکمل یقین رکھتے ہیں اور جدید ٹیکنالوجی کی دوڑ میں سب سے آگے رہنے کے لیے پُرعزم ہیں۔