LIVE
Loading Breaking News...

روس کے یوکرین پر حملے، 17 ہلاک اور فضائی دفاع کی کمزوری بے نقاب

News Image
روس کی جانب سے یوکرین پر شدید میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے ہیں جن کے نتیجے میں 17 افراد ہلاک ہو گئے۔ یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے بتایا ہے کہ اس حملے میں روسی فورسز نے 29 میزائل اور 115 ڈرونز کا استعمال کیا۔
یوکرین پر روس کے فضائی حملوں کا سلسلہ ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے، جس کے نتیجے میں ملک بھر میں 17 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ ان حالیہ حملوں نے یوکرین کے فضائی دفاعی نظام کی کمزوریوں کو ایک بار پھر واضح کر دیا ہے، کیونکہ یوکرینی فورسز کے پاس جدید میزائل شکن نظام کی شدید کمی پائی جاتی ہے۔ ان دفاعی خامیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے روسی فوج نے یوکرین کے مختلف شہروں کو نشانہ بنایا اور بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان پہنچایا۔ یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اس تباہ کن حملے کی تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا کہ روسی فورسز نے انتہائی جارحانہ حکمت عملی اپناتے ہوئے مجموعی طور پر 29 میزائل اور 115 ڈرونز کا استعمال کیا۔ صدر زیلنسکی کے مطابق، یوکرین کا فضائی دفاع اتنی بڑی تعداد میں بیک وقت آنے والے میزائلوں اور ڈرونز کو مکمل طور پر ناکارہ بنانے میں ناکام رہا، جس کی وجہ ملک میں موجود دفاعی بیٹریوں اور میزائل انٹرسیپٹرز کی ناکافی تعداد ہے۔ اس تازہ ترین خونریز تصادم کے بعد یوکرین کے حکام نے ایک بار پھر اپنے بین الاقوامی اتحادیوں بالخصوص مغربی ممالک اور امریکہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر جدید ترین فضائی دفاعی نظام اور میزائل انٹرسیپٹرز فراہم کریں۔ یوکرینی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ اگر اتحادیوں کی جانب سے بروقت اور مطلوبہ فوجی امداد فراہم نہ کی گئی، تو عام شہریوں کی جانوں کا تحفظ مزید مشکل ہو جائے گا اور روسی حملوں کے سامنے یوکرین کی مزاحمت کمزور پڑ سکتی ہے۔ دوسری جانب، بین الاقوامی برادری اور دفاعی ماہرین بھی یوکرین کی فضائی دفاعی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ جنگ طول پکڑنے کے ساتھ ساتھ یوکرین کے پاس موجود گولہ بارود اور میزائل شکن وسائل تیزی سے کم ہو رہے ہیں، جبکہ روس اپنی فضائی برتری کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اہم تنصیبات اور شہری علاقوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں یوکرین کے دفاعی حصار کو مضبوط بنانے کے لیے سفارتی سطح پر دباؤ مزید بڑھنے کا امکان ہے۔