World
امریکہ پرائمری انتخابات: مشی گن، مسوری اور واشنگٹن کے نتائج
امریکہ میں ہونے والے حالیہ پرائمری انتخابات نے ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر اسرائیل کی حمایت کے معاملے پر ترقی پسندوں اور وسطی دھڑے کے مابین گہرے اختلافات کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ان انتخابات کے نتائج نے آئندہ صدارتی اور کانگریس کی دوڑ پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔
امریکہ کی مختلف ریاستوں یعنی مشی گن، مسوری اور واشنگٹن میں حال ہی میں منعقد ہونے والے پرائمری انتخابات نے ملکی سیاست بالخصوص ڈیموکریٹک پارٹی کے اندرونی منظر نامے پر گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔ ان انتخابات کے دوران جہاں ایک طرف انتخابی عمل کا باقاعدہ آغاز ہوا، وہیں دوسری طرف پارٹی کے اندر پالیسی امور پر جاری چپقلش بھی کھل کر سامنے آ گئی۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ نتائج آنے والے قومی انتخابات کے حوالے سے ایک اہم اشارہ فراہم کرتے ہیں۔
حالیہ پرائمری نتائج کا سب سے نمایاں اور اہم پہلو ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر ترقی پسند (Progressives) اور وسطی (Centrists) دھڑوں کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج ہے۔ مشی گن اور دیگر ریاستوں میں مشرق وسطیٰ کی صورتحال بالخصوص امریکہ کی طرف سے اسرائیل کی پالیسی اور فوجی امداد پر شدید بحث دیکھنے میں آئی ہے۔ پارٹی کا ترقی پسند طبقہ موجودہ پالیسیوں سے سخت نالان ہے اور جنگ بندی کے مطالبات کے ساتھ ساتھ امریکی امداد پر کڑی شرائط عائد کرنے کا خواہاں ہے، جبکہ پارٹی کی مرکزی قیادت نے روایتی موقف کو برقرار رکھا ہے۔
ان اندرونی اختلافات نے نہ صرف مقامی سطح پر امیدواروں کی انتخابی مہم کو متاثر کیا ہے بلکہ رائے دہندگان میں بھی واضح تقسیم پیدا کر دی ہے۔ خاص طور پر عرب نژاد امریکیوں اور نوجوان ووٹرز کی ایک بڑی تعداد نے موجودہ انتظامیہ کی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی ووٹنگ یا پرائمری کے دوران اپنے تحفظات کا کھل کر اظہار کیا ہے۔ سیاسی مبصرین کا ماننا ہے کہ اگر ڈیموکریٹک قیادت نے ان ناراض ووٹرز کو مناਉਣ اور پارٹی کے اندر پائی جانے والی چپقلش کو ختم کرنے کے لیے فوری اقدامات نہ کیے، تو عام انتخابات میں پارٹی کو نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔
مشی گن، مسوری اور واشنگٹن کے ان انتخابی نتائج کو ملک بھر کے لیے ایک ٹیسٹ کیس کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ریپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں جماعتیں اب ان نتائج کا باریک بینی سے جائزہ لے رہی ہیں تاکہ اپنی آئندہ کی حکمت عملی کو تشکیل دیا جا سکے۔ آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا انتہائی دلچسپ ہوگا کہ آیا سیاسی جماعتیں اپنے اندرونی اختلافات کو ختم کر پاتی ہیں یا یہ پالیسی کے تنازعات انتخابی میدان میں ان کے لیے مزید مشکلات کا باعث بنتے ہیں۔