LIVE
Loading Breaking News...

جاپان کی جانب سے امریکی ٹমাহاک میزائل کا کامیاب تجربہ اور دفاعی پالیسی میں تبدیلی

News Image
جاپان کی بحریہ نے بحر الکاہل میں اپنے جنگی جہاز چوکی سے امریکی ٹমাহاک کروز میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔ یہ قدم جاپان کی جانب سے جنگ عظیم دوم کے بعد اپنے روایتی دفاعی اور عسکری موقف میں ایک بڑی تبدیلی کی عکاسی کرتا ہے۔
ٹوکیو: جاپان نے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو وسعت دینے اور خطے میں بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایک اور تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے امریکی ساختہ ٹমাহاک کروز میزائل کا تجربہ کیا ہے۔ اس بات کا باضابطہ اعلان کیا گیا ہے کہ یہ تجربہ 29 جولائی کو بحر الکاہل میں جاپان میری ٹائم سیلف ڈیفنس فورسز کے جنگی جہاز جے ایس چوکی (Chokai) سے کیا گیا۔ یہ اقدام جاپان کی عسکری تاریخ میں انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے کیونکہ یہ ملک جنگ عظیم دوم کے بعد سے اپنے امن پسند آئین اور روایتی دفاعی پالیسی پر سختی سے کاربند رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں خطے بالخصوص ایشیا پیسیفک میں بڑھتے ہوئے جیو پولیٹیکل چیلنجز اور ممکنہ خطرات کے پیش نظر جاپانی حکومت نے اپنے دفاعی بجٹ میں نمایاں اضافہ کرنے اور جدید ترین عسکری سازوسامان حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ٹমাহاک میزائلوں کی خریداری اور ان کا تجربہ اسی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ ہے تاکہ جاپان کسی بھی ممکنہ جارحیت کے خلاف مضبوط اور موثر جوابی صلاحیت کا حامل بن سکے۔ علاقائی مبصرین کے مطابق، اس تجربے سے جاپان کے روایتی دفاعی دائرہ کار میں وسعت آئے گی اور وہ دشمن کے دور دراز اہداف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت بھی حاصل کر رہا ہے۔ دوسری جانب، اس پیش رفت پر بین الاقوامی سطح پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں، جہاں بعض ممالک اسے خطے کے توازن کے لیے اہم قرار دے رہے ہیں، وہیں کچھ حلقے اس پر تحفظات کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔ جاپانی وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات مکمل طور پر دفاعی نوعیت کے ہیں اور ان کا مقصد ملک کی خودمختاری کا تحفظ کرنا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ آنے والے دنوں میں جاپان اپنی عسکری صلاحیتوں کو مزید جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے امریکہ اور دیگر اتحادیوں کے ساتھ دفاعی تعاون میں مزید تیزی لائے گا۔