LIVE
Loading Breaking News...

جاپانی ین کی گراوٹ: ٹرمپ انتظامیہ کی حمایت کی وجوہات

News Image
واشنگٹن اور ٹوکیو کی جانب سے نایاب مشترکہ مداخلت کا مقصد عالمی مالیاتی نظام پر منفی اثرات کو روکنا ہے۔ اس اقدام کا بنیادی ہدف کرنسی مارکیٹ میں استحکام پیدا کرنا ہے۔
عالمی مالیاتی منڈیوں میں اس وقت ایک اہم موڑ اس وقت آیا جب واشنگٹن اور ٹوکیو نے جاپانی ین کی قدر میں ہونے والی گراوٹ کو روکنے کے لیے ایک نایاب مشترکہ حکمت عملی کا آغاز کیا۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے جاپان کو دی جانے والی یہ حمایت عالمی مالیاتی نظام کو ممکنہ عدم استحکام اور اسپل اوور اثرات سے بچانے کے لیے نہایت اہم سمجھی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق جاپانی ین کی کمزوری نہ صرف جاپان کی ملکی معیشت بلکہ بین الاقوامی تجارت اور سرمایہ کاری کے رجحانات پر بھی گہرے اثرات مرتب کر رہی تھی۔ اس مشترکہ مداخلت کا بنیادی مقصد غیر ملکی زر مبادلہ کی منڈیوں میں ین کی پوزیشن کو مستحکم کرنا اور قیاس آرائی پر مبنی منفی سرگرمیوں کا خاتمہ کرنا ہے۔ ماضی میں اس طرح کے بڑے پیمانے پر اقدامات شاذ و نادر ہی دیکھنے میں آئے ہیں، جو اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ دونوں ممالک کی معاشی ٹیمیں موجودہ عالمی اقتصادی صورتحال کو لے کر کتنی سنجیدہ ہیں۔ واشنگٹن کی طرف سے اس تعاون کو اس بات کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے کہ مضبوط اور مستحکم معاشی شراکت داری عالمی سطح پر مالیاتی بحرانوں کو روکنے کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ مالیاتی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس قدم سے عالمی منڈیوں میں ایک مثبت پیغام گیا ہے اور سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال کرنے میں مدد ملی ہے۔ ین کی قدر میں کمی کی وجہ سے جاپانی درآمدات مہنگی ہو رہی تھیں اور تجارتی توازن خراب ہونے کا خطرہ پیدا ہو گیا تھا۔ اب جب کہ واشنگٹن اور ٹوکیو دونوں اس معاملے پر ایک ہی صفحے پر ہیں، توقع کی جا رہی ہے کہ کرنسی مارکیٹ میں زیادہ استحکام آئے گا اور عالمی معیشت کسی بڑے جھٹکے سے محفوظ رہے گی۔