Pakistan
آزاد کشمیر الیکشن: مظفرآباد کے نتائج میں ن لیگ اور پیپلز پارٹی کامیاب
آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کے دوسرے مرحلے میں مظفرآباد ڈویژن کے دو حلقوں میں تاخیر سے ہونے والی پولنگ کے نتائج سامنے آگئے ہیں۔ آزاد کشمیر الیکشن کمیشن کے مطابق مسلم لیگ ن اور پاکستان پیپلز پارٹی نے ایک ایک نشست پر کامیابی حاصل کی ہے۔
مظفرآباد: آزاد جموں و کشمیر کے انتخابات کے دوسرے مرحلے کے دوران خراب موسم اور لینڈ سلائیڈنگ کے باعث تاخیر سے ہونے والی پولنگ کے بعد مسلم لیگ ن (PML-N) اور پاکستان پیپلز پارٹی (PPP) نے مظفرآباد ڈویژن کے دو حلقوں میں ایک ایک نشست حاصل کر لی ہے۔ خراب موسمی حالات کی وجہ سے سڑکیں بند ہو گئی تھیں اور پولنگ عملے اور انتخابی مواد کی بروقت ترسیل ممکن نہیں ہو سکی تھی، جس کے باعث ان حلقوں میں پولنگ کو معطل یا ملتوی کرنا پڑا تھا۔ یہ مقابلہ آزاد کشمیر میں انتخابات کے دوسرے مرحلے کا حصہ تھا، جس میں مظفرآباد ڈویژن اور مقبوضہ جموں و کشمیر سے مہاجرین کے لیے مخصوص 12 نشستوں پر امیدواروں کے درمیان مقابلہ ہوا۔ آزاد کشمیر الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ سرکاری نتائج کے مطابق، مسلم لیگ ن کی نوری عارف نے ایل اے 27 (کٹلا) کی نشست 18,919 ووٹ لے کر جیت لی ہے، انہوں نے اپنے قریبی حریف استحکام پاکستان پارٹی (IPP) کے سردار تبارک علی کو 298 ووٹوں سے شکست دی۔ پی پی پی کے سردار جاوید ایوب 18,037 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے۔ دوسری طرف، پی پی پی کے سید بازل علی نقوی نے 28,214 ووٹ حاصل کر کے ایل اے 28 (لچھراٹ) کی نشست پر کامیابی حاصل کی، جہاں مسلم لیگ ن کے چوہدری شہزاد محمود نے 26,866 ووٹ لے کر دوسری پوزیشن حاصل کی۔ اننت نتائج کے ساتھ ساتھ الیکشن کمیشن نے دوسرے مرحلے کی باقی نشستوں پر بھی کامیاب امیدواروں کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا ہے۔ اس طرح انتخابات میں مسلم لیگ ن کی کل نشستوں کی تعداد 24 ہو گئی ہے جبکہ پیپلز پارٹی نے 10 نشستیں حاصل کی ہیں۔ یاد رہے کہ پہلے مرحلے میں میرپور ڈویژن کی 13 نشستوں میں سے ن لیگ نے 9 اور پی پی پی نے 4 نشستیں حاصل کی تھیں۔ اتوار کو ہونے والے دوسرے مرحلے کے بعد ن لیگ نے مزید 14 نشستیں اپنے نام کیں جبکہ پی پی پی صرف 5 نشستیں ہی مزید شامل کر سکی۔ انتخابات کا تیسرا اور آخری مرحلہ آزاد کشمیر کے پونچھ ڈویژن میں 10 اگست کو منعقد ہوگا، جہاں 11 نشستوں پر مقابلہ ہوگا۔ آزاد کشمیر میں سیکیورٹی خدشات اور عوامی احتجاج کی وجہ سے انتخابات تین مرحلے میں کروائے جا رہے ہیں۔