Pakistan
کراچی میں ایم کیو ایم پاکستان کے مرکز پر تصادم، اے ٹی اے کے تحت مقدمہ درج
کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے مرکز پر دو گروپوں کے درمیان ہونے والے تصادم اور فائرنگ کے واقعے پر پولیس نے انسداد دہشت گردی سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ واقعے کے دوران فائرنگ سے ایک شخص گولی لگنے سے زخمی ہوا جبکہ علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا تھا۔
کراچی پولیس نے اتوار کے روز متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کے بہادر آباد میں واقع مرکزی دفتر پر دو گروپوں کے درمیان ہونے والے تصادم اور شدید فائرنگ کے واقعے کے بعد انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق یہ ایف آئی آر نیو ٹاؤن تھانے میں ریاست کی مدعی میں درج کی گئی ہے جس میں پاکستان پینل کوڈ کی مختلف دفعات کے ساتھ ساتھ انسداد دہشت گردی ایکٹ کی دفعہ 7 کو بھی شامل کیا گیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مقدمے میں دو نامزد ملزمان اظہر عرف لمبا اور ذیشان حبیب سمیت 20 سے 25 نامعلوم افراد کو نامزد کیا گیا ہے اور قانون کے مطابق کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔
مدعی مقدمہ اے ایس آئی مرزا انور بیگ کی جانب سے درج کرائی گئی ایف آئی آر میں بتایا گیا ہے کہ انہیں 2 اگست کی رات آٹھ بجے اطلاع ملی تھی کہ بہادر آباد کی چھوٹی مارکیٹ کے قریب دو گروپوں میں خونی تصادم شروع ہو چکا ہے۔ اس جھگڑے کے دوران فائرنگ کی زد میں آ کر عامر نامی ایک شخص کے بازو پر گولی لگی جبکہ اسد اور کاشف علی سمیت دو دیگر افراد بھی شدید زخمی ہو گئے۔ پولیس کے مطابق تمام زخمیوں کو فوری طور پر عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا جہاں انہیں طبی امداد دی گئی۔ ایف آئی آر میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ ملزمان آپس میں اور فضا میں اندھا دھند فائرنگ کرتے رہے جس کی وجہ سے پورے علاقے میں شدید دہشت اور خوف و ہراس پھیل گیا۔
تحقیقات کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ یہ ہنگامہ آرائی اس وقت شروع ہوئی جب پارٹی کے مرکز میں ایک اہم میٹنگ جاری تھی۔ پولیس کے مطابق مصطفیٰ کمال اور انیس قائم خانی کے حامی گروپ اور ڈاکٹر خالد مقبول صدیقی اور امین الحق کے حامی گروپ کے کارکنان کے درمیان کسی بات پر تلخ کلامی ہوئی جو بعد میں جسمانی تصادم میں تبدیل ہو گئی۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ قائم خانی گروپ کے حامیوں مبینہ طور پر صدیقی گروپ کے اراکین کو تشدد کا نشانہ بنایا اور انہیں زبردستی پارٹی ہیڈ کوارٹر سے باہر نکال دیا۔ واقعے کے فورا بعد سندھ حکومت کی جانب سے نافذ کردہ دفعہ 144 کی خلاف ورزی اور اسلحے کی نمائش پر بھی سخت قانونی سوالات اٹھائے گئے۔
واقعے کے بعد پولیس نے علاقے میں سکیورٹی مزید سخت کر دی ہے اور امن و امان کی بحالی کے لیے پولیس کی اضافی نفری اور گشت بڑھا دیا گیا ہے تاکہ مقامی رہائشیوں میں پیدا ہونے والا خوف دور کیا جا سکے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ نامزد ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں اور اس پورے واقعے کے محرکات جاننے کے لیے مزید تفتیش جاری ہے تاکہ قانون شکن عناصر کو کٹہرے میں لایا جا سکے۔