LIVE
Loading Breaking News...

لاہور ہائیکورٹ کا مینار پاکستان جلسہ درخواست پر فیصلہ

News Image
لاہور ہائیکورٹ نے ڈپٹی کمشنر کی جانب سے اجازت نہ دینے کے بعد پی ٹی آئی کی درخواست کو نمٹا دیا ہے۔ عدالت نے درخواست گزار کو ڈپٹی کمشنر کے فیصلے کے خلاف متعلقہ فورم پر قانونی چارہ جوئی کی ہدایت کی ہے۔
لاہور ہائیکورٹ نے بدھ کے روز پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی جانب سے مینارِ پاکستان پر جلسہ منعقد کرنے کی اجازت کے لیے دائر کی گئی درخواست کو اس وقت نمٹا دیا جب عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ ڈپٹی کمشنر نے اس درخواست کو مسترد کر دیا ہے۔ یاد رہے کہ تحریک انصاف نے اپنے بانی رہنما کی قید کے تین سال مکمل ہونے پر ملک گیر احتجاج اور جلسوں کا اعلان کیا تھا، جس کے تحت پشاور میں مرکزی اجتماع رکھا گیا جبکہ لاہور میں بھی جلسے کی تیاری کی جا رہی تھی۔ بدھ کے روز جسٹس مرزا وقاس رؤف نے پی ٹی آئی لاہور کے صدر میاں اکرم عثمان کی طرف سے دائر کردہ درخواست پر سماعت کی۔ سماعت کے آغاز پر معزز جج نے سرکاری قانون افسر کو ہدایت کی کہ وہ ڈپٹی کمشنر سے ہدایات حاصل کریں۔ جب سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو قانون افسر نے عدالت کو بتایا کہ ڈپٹی کمشنر نے ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں پی ٹی آئی کی درخواست کو مسترد کر دیا ہے اور موقف اختیار کیا کہ لاہور میں ممکنہ سکیورٹی خدشات اور دہشت گردی کے خطرات کے پیشِ نظر جلسے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ عدالتی کارروائی کے دوران جسٹس مرزا وقاس رؤف نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت عدالت اپنے دائرہ اختیار کو استعمال کرتے ہوئے کس قانون کے تحت جلسہ کرنے کی اجازت دے سکتی ہے جبکہ ڈپٹی کمشنر اس معاملے پر باضابطہ فیصلہ کر چکے ہیں۔ عدالت نے درخواست کو نمٹاتے ہوئے وکیل کو مشورہ دیا کہ اگر وہ ڈپٹی کمشنر کے اس حکم سے ناخوش ہیں تو وہ مناسب قانونی فورم پر اس فیصلے کو چیلنج کریں، جو کہ اس معاملے کا درست قانونی راستہ ہے۔ قبل ازیں، دائر کی گئی درخواست میں پی ٹی آئی رہنما نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ انہوں نے 22 جولائی کو این او سی کے لیے درخواست جمع کروائی تھی جس میں تمام انتظامی، ٹریفک اور سکیورٹی پروٹوکولز کی مکمل پاسداری کی یقین دہانی بھی کرائی گئی تھی۔ درخواست میں یہ بھی الزام عائد کیا گیا تھا کہ بار بار رابطہ کرنے کے باوجود ڈپٹی کمشنر کے دفتر نے نہ تو درخواست منظور کی اور نہ ہی باضابطہ طور پر مسترد کی، بلکہ تاخیری حربے استعمال کیے گئے جو بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہیں۔