LIVE
Loading Breaking News...

اسلام آباد ہائیکورٹ میں ججوں کی تقرری میں تاخیر پر درخواست دائر

News Image
اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک نئی رٹ پٹیشن دائر کی گئی ہے جس میں صدر مملکت آصف علی زرداری کی جانب سے ججوں کی تقرری کی سمری پر دستخط کرنے میں مبینہ تاخیر کو چیلنج کیا گیا ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ صدر کا یہ اقدام آئینی تقاضوں کے خلاف ہے اور اس سے نظامِ عدل شدید متاثر ہو رہا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں بدھ کے روز ایک رٹ پٹیشن دائر کی گئی ہے جس میں صدر مملکت آصف علی زرداری کی جانب سے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے بھیجی گئی اس سمری پر منظوری دینے میں تاخیر کو چیلنج کیا گیا ہے جو کہ ملک کے مختلف ہائیکورٹس میں ججوں کی تقرری اور توثیق کے حوالے سے تھی۔ یہ پٹیشن وکیل لقمان ظفر چوہدری کی طرف سے ان کے کونسل زاہد آصف چوہدری کے توسط سے دائر کی گئی ہے۔ درخواست میں عدالت سے استدع کی گئی ہے کہ وہ صدر مملکت کو ہدایت کرے کہ وہ وزیراعظم کی طرف سے ارسال کردہ سمری کو فوری طور پر منظور کریں، جس میں اسلام آباد، لاہور، سندھ، بلوچستان اور پشاور ہائیکورٹس کے لیے 19 اضافی ججوں کی تقرری اور 5 ججوں کی توثیق کی سفارش کی گئی تھی۔ یاد رہے کہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (جے سی پی) نے چیف جسٹس آف پاکستان یحییٰ آفریدی کی سربراہی میں 20 اور 21 جولائی کو ہونے والے اجلاسوں میں آئین کے آرٹیکل 175 اے کے تحت طریقہ کار پر عمل کرتے ہوئے ان ناموں کی سفارش کی تھی، جس کے بعد وزیراعظم نے آئین کے آرٹیکل 48 کے تحت یہ سمری صدر مملکت کو منظوری کے لیے ارسال کی تھی۔ پٹیشن کے مطابق، نئے نامزد ججوں کی حلف برداری کی تقریب 27 جولائی کو طے تھی لیکن صدر مملکت کی جانب سے نہ تو سمری پر دستخط کیے گئے اور نہ ہی اسے واپس کیا گیا، جس کے باعث تقریب کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کرنا پڑا۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ صدر کا یہ طرزِ عمل آئین کے آرٹیکل 48 (1) کی لازمی شقوں کی خلاف ورزی ہے، جو یہ کہتی ہے کہ صدرِ مملکت کابینہ یا وزیراعظم کی ایڈوائس کے مطابق عمل کریں گے۔ پٹیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ اس تاخیر کی وجہ سے عدالتوں میں ججوں کی کمی واقع ہو رہی ہے جو کہ منصفانہ ٹرائل اور انصاف تک رسائی کے بنیادی حقوق کی پامالی کے مترادف ہے۔