LIVE
Loading Breaking News...

صدر ٹرمپ کا انتخابی ایگزیکٹو آرڈر عدالت میں چیلنج اور اہم فیصلہ

News Image
امریکی عدالتِ اپیل نے بائیڈن کے دور میں تعینات ججوں کی اکثریت کے ساتھ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اہم انتخابی ضابطے کے ایگزیکٹو آرڈر پر پابندی برقرار رکھی ہے۔ اس فیصلے سے تئیس ریاستوں اور واشنگٹن ڈی سی میں میل ان بیلٹ کے نظام سے متعلق تنازعات مزید گہرے ہو گئے ہیں۔
امریکہ میں سیاسی اور قانونی محاذ پر ایک بار پھر کشیدگی اس وقت بڑھ گئی جب فرسٹ سرکٹ کورٹ آف اپیلز کے ججوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تاریخی انتخابی سالمیت کے ایگزیکٹو آرڈر کے خلاف عائد حکم امتناعی کو ہٹانے سے انکار کردیا۔ اس فیصلے کے نتیجے میں تئیس ریاستوں اور واشنگٹن ڈی سی میں صدر ٹرمپ کے نافذ کردہ اہم انتخابی ضابطے فی الحال معطل رہیں گے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس عدالتی فیصلے سے دو ہزار چھبیس کے وسطی مدتی انتخابات سے قبل ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے کے نظام یعنی میل ان بیلٹ کے حوالے سے جاری تنازعات اور ابہام میں مزید اضافہ ہوگا۔ قانونی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ امریکی سیاست میں وفاقی اور ریاستی اختیارات کی کشمکش کا ایک اور اہم باب ہے۔ دوسری جانب ٹرمپ انتظامیہ اور ان کے حامیوں نے اس عدالتی حکم کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے انتخابی عمل کی شفافیت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ انتخابی عمل کو مزید محفوظ بنانے کے لیے سخت اقدامات ناگزیر ہیں تاکہ کسی بھی قسم کی گڑبڑ یا بے ضابطگی سے بچا جا سکے۔ عدالتی کارروائی کے دوران دونوں جانب کے وکلاء نے اپنے دلائل میں انتخابی قوانین اور آئینی اختیارات پر بھرپور بحث کی۔ اس فیصلے کے بعد اب آنے والے دنوں میں سیاسی جماعتوں کی طرف سے مزید قانونی چارہ جوئی متوقع ہے کیونکہ دونوں فریق دو ہزار چھبیس کے انتخابات سے قبل اپنے اپنے مؤقف کو منوانے کے لیے پرعزم ہیں۔ امریکی عوام اور میڈیا کی نظریں اب اس کیس کے آئندہ قانونی مراحل پر مرکوز ہیں جو ملک کے انتخابی منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب کرسکتا ہے۔