Business
پاکستان کی چین سے 1.3 ارب ڈالر ری فنانسنگ کی درخواست
پاکستان نے اپنے غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر کو مزید مستحکم کرنے کے لیے چین سے ایک ارب تیس کروڑ ڈالر کی ری فنانسنگ کی درخواست کی ہے۔ اس سے قبل اسٹیٹ بینک کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ پاکستان نے ایک ارب چالیس کروڑ ڈالر کا چینی قرضہ کامیابی سے واپس کر دیا ہے۔
اسلام آباد: پاکستان نے اپنے غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر کو مزید سہارا دینے اور معاشی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے چین سے ایک ارب تیس کروڑ ڈالر کی فوری ری فنانسنگ کی درخواست کی ہے۔ اقتصادی ذرائع کے مطابق یہ قدم ملک کی بیرونی مالیاتی ضروریات کو پورا کرنے اور مالیاتی اشاریوں کو بہتر بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب حال ہی میں پاکستان نے ایک ارب چالیس کروڑ ڈالر کا ایک اور چینی قرضہ کامیابی کے ساتھ واپس ادا کر دیا ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر اور دیگر اعلیٰ حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پاکستان نے اپنی بیرونی ذمہ داریوں کو وقت پر پورا کرتے ہوئے مذکورہ قرضہ مکمل طور پر چکا دیا ہے۔ معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ قرض کی ادائیگی کے بعد ملک کے زر مبادلہ کے ذخائر میں توازن برقرار رکھنے کے لیے چین سے نئے ری فنانسنگ پیکج کا حصول انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس وقت حکومت کی اولین ترجیح ملکی معیشت کو پٹڑی پر رکھنا، برآمدات میں اضافہ کرنا اور بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ کو کم سے کم کرنا ہے۔ وزارتِ خزانہ اور دیگر متعلقہ ادارے اس سلسلے میں چینی حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں تاکہ اس مالیاتی عمل کو جلد از جلد حتمی شکل دی جا سکے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ دوست ملک چین کی جانب سے اس ری فنانسنگ کی منظوری سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر میں نمایاں بہتری آئے گی، جس سے ملک میں اقتصادی سرگرمیوں کو بھی تقویت ملے گی اور بین الاقوامی مارکیٹ میں پاکستان کی مالی پوزیشن مزید مستحکم ہوگی۔