LIVE
Loading Breaking News...

نیب کی تاریخی کارروائی، رواں سال کی دوسری سہ ماہی میں 2.45 ٹریلین روپے کی ریکارڈ وصولی

News Image
قومی احتساب بیورو (نیب) نے رواں سال کی دوسری سہ ماہی کے دوران دو ٹریلین روپے سے زائد کے سرکاری اثاثے کامیابی سے واپس حاصل کر لیے ہیں۔ اس شاندار کارکردگی کے بعد رواں سال کے پہلے نصف میں مجموعی وصولیوں کی مالیت ریکارڈ پانچ ٹریلین روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔
اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) نے انسداد بدعنوانی کی تاریخ میں ایک اور اہم سنگ میل عبور کرتے ہوئے رواں سال کی دوسری سہ ماہی کے دوران 2.45 ٹریلین روپے مالیت کے سرکاری اثاثے بازیاب کرنے کا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ نیب حکام کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق، یہ ملک کی تاریخ میں کسی بھی سہ ماہی کے دوران ہونے والی سب سے بڑی ریکوری ہے، جس میں منقولہ اور غیر منقولہ دونوں قسم کے اثاثے شامل ہیں۔ اس بڑی کامیابی نے ملکی معیشت کو سہارا دینے اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والی رقوم کی واپسی کے حوالے سے ایک نئی مثال قائم کی ہے۔ رپورٹس کے مطابق اس شاندار کارکردگی کے نتیجے میں رواں سال کی پہلی ششماہی کے دوران نیب کی مجموعی وصولیوں کا حجم ریکارڈ 5.4 ٹریلین روپے تک جا پہنچا ہے۔ ماہرین اور تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ اتنی بڑی مالیت کے اثاثوں کی واپسی سے نہ صرف قومی اداروں پر عوامی اعتماد بحال ہوا ہے بلکہ اس سے ملکی معیشت کو بھی زبردست تقویت ملی ہے۔ نیب کے ترجمان کا کہنا ہے کہ کرپشن کے خاتمے اور لوٹ مار کی گئی رقوم کی واپسی کے لیے ادارے کی کوششیں بغیر کسی دباؤ کے انتہائی سختی اور شفافیت کے ساتھ جاری ہیں۔ اس کے علاوہ، نیب نے جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ ہوتے ہوئے اپنے احتساب کے نظام میں اصلاحات کا سلسلہ بھی شروع کر دیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق، نیب نے کیسز کی تفتیش اور کارروائیوں کو مزید شفاف اور تیز رفتار بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی احتساب کے نظام کو بھی وسعت دی ہے۔ ٹیکنالوجی کے اس جدید استعمال سے تحقیقاتی عمل میں مزید تیزی آئے گی اور مالیاتی جرائم کا سراغ لگانا زیادہ آسان ہو جائے گا۔ حکومت اور کاروباری حلقوں نے نیب کی اس ریکارڈ ریکوری کا خیرمقدم کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ اس طرح کے سخت اور موثر اقدامات سے ملک میں کرپشن کے کلچر کی حوصلہ شکنی ہوگی۔ نیب کی قیادت کا عزم ہے کہ وہ قومی دولت کی لوٹ مار میں ملوث عناصر کے خلاف بلا امتیازی کارروائیاں جاری رکھیں گے اور ہر ایک پائی واپس قومی خزانے میں جمع کروائی جائے گی تاکہ ملک کو معاشی بحران سے نکالا جا سکے۔