Pakistan
لاہور تھانہ زیادتی کیس: اے ایس آئی گرفتار، تمام اسٹاف معطل
لاہور کے ایک پولیس اسٹیشن میں ذہنی معذور لڑکی کے ساتھ مبینہ زیادتی کے واقعے پر سخت ایکشن لیا گیا ہے۔ واقعے میں ملوث اے ایس آئی کو گرفتار کر کے تھانے کے تمام عملے کو معطل کر دیا گیا ہے۔
لاہور کے ایک پولیس اسٹیشن میں پیش آنے والے انتہائی شرمناک اور افسوسناک واقعے کے بعد پولیس محکمہ میں ہلچل مچ گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ایک ذہنی معذور لڑکی کو پولیس اسٹیشن کے اندر مبینہ طور پر جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا جس پر اعلیٰ حکام نے فوری اور سخت نوٹس لیتے ہوئے کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ واقعے کے مرکزی ملزم، جو کہ ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر (اے ایس آئی) ہے، کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ غفلت اور لاپرواہی برتنے پر متعلقہ پولیس اسٹیشن کے پورے عملے کو معطل کر دیا گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس گھناؤنے فعل میں ملوث ہونے کے الزام میں مجموعی طور پر درجنوں پولیس اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔ واقعے کے منظر عام پر آنے کے بعد عوامی حلقوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جن کا کہنا ہے کہ قانون کے محافظوں کی جانب سے اس طرح کے جرائم کا ارتکاب معاشرے کے لیے انتہائی خطرناک اور شرمناک ہے۔
اس سنگین واقعے کے تناظر میں پولیس حکام نے فوری طور پر حفاظتی اقدامات سخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ مستقبل میں ایسے حواہد کی روک تھام کی جا سکے اور تھانوں کے اندر کمزور طبقے کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ گرفتار اے ایس آئی کے خلاف قانون کے مطابق سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور اس معاملے میں کسی بھی قسم کی غفلت یا رعایت کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
محکمہ پولیس کے اندر شفافیت لانے اور اس نوعیت کے واقعات کا سدباب کرنے کے لیے اعلیٰ سطح پر تحقیقاتی کمیٹیاں بھی تشکیل دے دی گئی ہیں جو اس بات کا جائزہ لیں گی کہ تھانے کے اندر اس قسم کی سنگین خلاف ورزی کیسے ممکن ہوئی۔ اس کے ساتھ ہی پولیس کے انتظامی امور پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں اور یہ مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ تمام پولیس اسٹیشنز میں سیکیورٹی اور مانیٹرنگ کے نظام کو مزید موثر بنایا جائے تاکہ شہریوں بالخصوص خواتین اور معذور افراد کے حقوق کا تحفظ کیا جا سکے۔