Technology
سڈنی کا لین کوو ویسٹ علاقہ ڈیٹا سینٹر ویسٹ لینڈ بننے کا خدشہ
آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے نواحی علاقے لین کوو ویسٹ میں تیزی سے بننے والے ڈیٹا سینٹرز کی وجہ سے مقامی رہائشیوں کو شدید نوعیت کے ماحولیاتی اور شور کے مسائل کا سامنا ہے۔ اس صورتحال پر تشویش بڑھتی جا رہی ہے کہ یہ علاقہ جلد ہی ایک ڈیٹا سینٹر ویسٹ لینڈ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔
آسٹریلیا کے سب سے بڑے شہر سڈنی کے پرسکون نواحی علاقے لین کوو ویسٹ کے رہائشی اس وقت شدید ذہنی کوفت اور ماحولیاتی مسائل کا شکار ہیں جب انہیں اپنے اردگرد جنگلی پٹریوں اور پرسکون ماحول میں ایک عجیب اور مستقل سرسراہٹ اور گونج سنائی دینے لگی۔ مقامی مکینوں کے مطابق، جب انہوں نے اس آواز کا تعاقب کیا تو انہیں معلوم ہوا کہ یہ آوازیں ان کے گھروں کے قریب بڑی تیزی سے تعمیر ہونے والے نئے اور بڑے ڈیٹا سینٹرز کی مشینری اور کولنگ سسٹمز سے آ رہی ہیں۔ اس صورتحال نے مقامی آبادی کو ہلا کر رکھ دیا ہے کیونکہ وہ طویل عرصے سے اس پرسکون علاقے میں رہائش پذیر تھے۔
ماہرین اور مقامی کونسل کے اراکین کا کہنا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں کلاؤڈ کمپیوٹنگ اور مصنوعی ذہانت کے بڑھتے ہوئے رجحان کی وجہ سے دنیا بھر میں ڈیٹا سینٹرز کی مانگ میں ہوشربا اضافہ ہوا ہے۔ سڈنی جیسے بڑے تجارتی حب میں زمین کی دستیابی اور نیٹ ورک کی سہولیات کی وجہ سے کارپوریشنز یہاں تیزی سے بڑی تنصیبات قائم کر رہی ہیں۔ تاہم، اس بے ہنگم اور منصوبہ بندی کے بغیر تعمیرات کی وجہ سے رہائشی علاقے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ ان ڈیٹا سینٹرز سے نکلنے والی مسلسل گرم ہوا اور جنریٹرز کا شور مکینوں کے لیے دن کا چین اور رات کی نیند حرام کر رہا ہے۔
مقامی کمیونٹی کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والے افراد اور ماحولیاتی ماہرین نے حکومت اور مقامی انتظامیہ سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ اگر ان منصوبوں پر کڑے ماحولیاتی ضابطے لاگو نہ کیے گئے اور ٹاؤن پلاننگ کے اصولوں کو نظر انداز کیا جاتا رہا تو یہ خوبصورت نواحی علاقہ جلد ہی کنکریٹ کے جنگل اور ایک 'ڈیٹا سینٹر ویسٹ لینڈ' میں تبدیل ہو جائے گا۔ اس سے نہ صرف قیمتی قدرتی ماحول تباہ ہوگا بلکہ رہائشیوں کی املاک کی قیمتوں میں بھی نمایاں کمی متوقع ہے۔
دوسری جانب، ٹیکنالوجی کمپنیوں اور ان منصوبوں کی ترقیاتی فرمز کا کہنا ہے کہ وہ جدید ترین اور ماحول دوست ٹیکنالوجی استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ شور اور گرمی کے اثرات کو کم سے کم کیا جا سکے۔ اس کے باوجود، رہائشی اس بات پر بضد ہیں کہ ان کے بنیادی حقوق اور سکون کو نظر انداز کر کے تجارتی مفادات کو فوقیت دی جا رہی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس تنازعے کے مزید شدت اختیار کرنے کا امکان ہے کیونکہ کمیونٹی نے ان منصوبوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی اور احتجاجی مظاہروں کا عندیہ دیا ہے۔