World
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بحالی، حوثی حملے کا دعویٰ
یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکر کو بیلسٹک میزائل سے نشانہ بنانے کے دعوے کے بعد عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بحالی دیکھنے میں آئی ہے۔ اس حملے کے بعد خطے میں تجارتی جہاز رانی اور توانائی کی سپلائی لائنز کے حوالے سے سکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اس وقت تیزی سے ریکوری دیکھنے میں آئی جب یمن کے حوثی باغیوں نے بحیرہ احمر میں ایک سعودی آئل ٹینکر پر بیلسٹک میزائل سے حملہ کرنے کا دعویٰ کیا۔ اس واقعے کے بعد عالمی توانائی کی منڈیوں میں ایک بار پھر ہلچل مچ گئی ہے کیونکہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث تجارتی جہاز رانی کے راستے شدید خطرات کی زد میں ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق حوثی ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے جنگجوؤں نے سعودی عرب کی بندرگاہ ینبع کے قریب ایک آئل ٹینکر کو انتہائی درستگی کے ساتھ میزائل کا نشانہ بنایا۔ اس نوعیت کے حملوں نے نہ صرف خطے میں سکیورٹی کے مسائل کو جنم دیا ہے بلکہ عالمی سطح پر تیل کی سپلائی کے تسلسل کو لے کر بھی سرمایہ کاروں اور توانائی کے ماہرین میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز جیسے اہم آبی راستے عالمی معیشت اور تیل کی ترسیل کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان راستوں پر کسی بھی قسم کی عسکری کارروائی یا خطرے کے براہ راست اثرات بین الاقوامی منڈیوں میں خام تیل کے نرخوں پر پڑتے ہیں، جس سے قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا نیا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔
موجودہ صورتحال نے ایک بار پھر عالمی طاقتوں اور علاقائی ممالک کو سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ وہ سمندری گزرگاہوں کی حفاظت کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔ دوسری جانب، سکیورٹی اداروں اور متعلقہ حکام کی طرف سے اس مبینہ حملے کی تفصیلات کا جائزہ لیا جا رہا ہے تاکہ توانائی کی سپلائی کو یقینی بنایا جا سکے اور کسی بھی ممکنہ بحران سے نمٹا جا سکے۔