LIVE
Loading Breaking News...

پاکستان میں سولر ٹرانزیشن اور بیٹری اسٹوریج، شیری رحمان کا اہم بیان

News Image
سابق وفاقی وزیر شیری رحمان نے پاکستان میں شمسی توانائی کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے بیٹری اسٹوریج ٹیکنالوجی پر زور دیا ہے۔ ملک میں گرین انرجی اور سولر کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کے باوجود توانائی کے ذخیرہ کے بغیر اہداف کا حصول مشکل ہو سکتا ہے۔
اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کی مرکزی رہنما اور سینیٹر شیری رحمان نے ملک میں شمسی توانائی کے استعمال کو تیز کرنے اور اس کے مؤثر تسلسل کے لیے بیٹری اسٹوریج کے نظام کو لازمی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک میں سورج کی روشنی سے فائدہ اٹھانے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، لیکن بغیر بیٹری اسٹوریج کے گرڈ پر دباؤ کم کرنا اور بجلی کی بلاتعطل فراہمی ممکن نہیں ہو پائے گی۔ انہوں نے اس بات پر روشنی ڈالی کہ پاکستان کو روایتی ایندھن پر انحصار کم کرنے کے لیے متبادل اور صاف توانائی کے ذرائع کی طرف تیزی سے بڑھنا ہوگا۔ دوسری جانب توانائی کے شعبے سے متعلق دیگر خبروں میں بتایا گیا ہے کہ حکومت ملک میں صاف توانائی کے حصول کے لیے جامع حکمت عملی تیار کر رہی ہے جس کے تحت اگلے چند برسوں میں بجلی کی پیداوار کا بڑا حصہ ماحول دوست ذرائع سے حاصل کرنے کا ہدف ہے۔ اس دوران آئی ایم ایف کی جانب سے ٹائم بیسڈ پاور ٹیرف کے حوالے سے کچھ چیلنجز بھی سامنے آئے ہیں، جن کی وجہ سے حکومت کو سستی بجلی کی فراہمی میں تکنیکی مشکلات کا سامنا ہے۔ تاہم ماہرین کا ماننا ہے کہ ملک میں تقسیم شدہ سولر سسٹمز کی مقبولیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور سال 2025 کے دوران مجموعی بجلی کی کھپت میں سولر کا حصہ قابل ذکر حد تک بڑھ چکا ہے۔ ماہرین اور پالیسی ساز اس بات پر متفق ہیں کہ اگر پاکستان کو توانائی کے مالیاتی خسارے اور مہنگے درآمدی تیل سے جان چھڑانی ہے، تو شمسی توانائی کے ساتھ ساتھ بیٹری اسٹوریج کی صنعت کو ملک میں فروغ دینا ہوگا۔ اس سے نہ صرف صارفین کو سستی اور مستحکم بجلی ملے گی بلکہ قومی گرڈ پر بھی اضافی بوجھ کم ہوگا۔ حکومت اور نجی شعبے کو مل کر اس شعبے میں سرمایہ کاری کرنا ہوگی تاکہ پاکستان اپنے ماحولیاتی وعدوں کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ توانائی کے شعبے میں خود کفیل ہو سکے۔