LIVE
Loading Breaking News...

برطانوی اولمپک غوطہ خور کا اعتراف: پورن کی لت نے زندگی کیسے متاثر کی

News Image
برطانیہ کے سابق اولمپک غوطہ خور نے انکشاف کیا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے نصف سے زیادہ حصے تک آن لائن بالغ مواد کی لت کا شکار رہے۔ انہوں نے اس مشکل عادات اور کھیلوں کی تیاری کے دوران درپیش چیلنجز پر کھل کر بات کی ہے۔
برطانیہ کے ایک سابق اولمپک غوطہ خور نے انتہائی سنسنی خیز اور چونکا دینے والا انکشاف کیا ہے کہ وہ اپنی زندگی کے نصف سے زائد عرصے تک آن لائن بالغ مواد (پورن) کی شدید لت کا شکار رہے ہیں۔ برطانوی ٹیم کے لیے خدمات انجام دینے والے اس ایتھلیٹ نے بتایا کہ کس طرح اس پوشیدہ لت نے ان کی پیشہ ورانہ اور نجی زندگی کو طویل عرصے تک متاثر کیا۔ کھلاڑی کے مطابق، یہ مسئلہ اس وقت شروع ہوا جب وہ انتہائی کم عمر تھے اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ ایک ایسی عادت بن گئی جس سے جان چھڑانا ان کے لیے انتہائی مشکل ثابت ہوا۔ ایک اعلیٰ سطحی کھلاڑی کی حیثیت سے جب وہ اولمپکس اور دیگر بین الاقوامی مقابلوں کی تیاری میں مصروف تھے، تب بھی وہ اس نفسیاتی جنگ کا سامنا کر رہے تھے۔ کھیلوں کے میدان میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے جہاں جسمانی فٹنس اور ذہنی یکسوئی سب سے زیادہ ضروری ہوتی ہے، وہیں اس قسم کی اندرونی الجھنیں اور غفلتیں کھلاڑی کی کارکردگی پر منفی اثرات مرتب کرتی ہیں۔ انہوں نے اس بات کا اعتراف کیا کہ اس لت کی وجہ سے انہیں شدید ذہنی تناؤ اور تنہائی کا سامنا کرنا پڑا۔ آج کے دور میں جب ڈیجیٹل مواد تک رسائی انتہائی آسان ہو چکی ہے، نوجوان نسل اور یہاں تک کہ نامور کھلاڑی بھی اس قسم کے مسائل کا شکار ہو رہے ہیں۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ آن لائن بالغ مواد کی لت ایک نشے کی مانند ہے جو انسانی دماغ کے پاداش کے نظام کو بری طرح متاثر کرتی ہے اور اس سے چھٹکارا پانے کے لیے پیشہ ورانہ طبی مدد اور کونسلنگ کی ضرورت ہوتی ہے۔ سابق اولمپک غوطہ خور کا اس حوالے سے کھل کر سامنے آنا معاشرے میں ایک اہم پیغام دیتا ہے کہ اس نوعیت کے مسائل پر شرمانے کے بجائے بات چیت کی جائے اور متاثرہ افراد کو بروقت مدد فراہم کی جائے۔