World
روم مذاکرات: لبنان اور اسرائیل کے درمیان حزب اللہ کے معاملے پر ڈیڈلاک
روم میں ہونے والے مذاکرات کے دوسرے روز بھی حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے اور جنوبی لبنان سے اسرائیلی انخلا کے حوالے سے کوئی اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔ دونوں فریقین کے درمیان اہم امور پر گہرے اختلافات بدستور برقرار ہیں۔
روم میں جاری دو طرفہ مذاکرات کے دوسرے روز بھی اہم اور حساس امور پر فریقین کے درمیان کسی قسم کی پیش رفت ریکارڈ نہیں کی جا سکی ہے۔ ذرائع کے مطابق، بات چیت کے دوران بنیادی اختلافات اس بات پر ہیں کہ کس طرح حزب اللہ کو غیر مسلح کیا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کا مکمل انخلا کس طرح عمل میں لایا جائے۔ یہ مذاکرات خطے میں پائیدار امن کے قیام اور طویل عرصے سے جاری کشمکش کو ختم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں، تاہم دونوں ممالک اپنے اپنے مؤقف پر بدستور قائم ہیں۔
لبنانی فریق کا موقف ہے کہ سلامتی اور خودمختاری کے اصولوں کو مقدم رکھا جانا چاہیے اور اسرائیلی افواج کو فوری طور پر تمام مقبوضہ علاقوں سے پیچھے ہٹنا چاہیے۔ دوسری جانب، اسرائیلی حکام کا اصرار ہے کہ شمالی سرحدوں کی سلامتی کے لیے حزب اللہ کا مکمل خاتمہ اور غیر مسلح ہونا ناگزیر ہے۔ اس کشمکش کے باعث مذاکراتی میز پر دونوں فریقین کے درمیان ڈیڈلاک کی کیفیت پیدا ہو چکی ہے، جس سے بین الاقوامی سطح پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
مفاہمت کی راہ تلاش کرنے کے لیے جاری ان مذاکرات کے دوران ثالث ممالک بھی فریقین کے درمیان فاصلے مٹانے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن زمینی حقائق اور عسکری مطالبات کی شدت کے باعث کوئی بھی فریق فی الحال لچک دکھانے کو تیار نظر نہیں آتا۔ مبصرین کا ماننا ہے کہ جب تک دونوں جانب سے سیاسی اور عسکری سطح پر بنیادی نوعیت کے سمجھوتوں کا آغاز نہیں کیا جاتا، اس نوعیت کے مذاکرات سے فوری طور پر کسی بڑے مثبت نتیجے کی توقع کرنا قبل از وقت ہوگا۔ آنے والے دنوں میں فریقین کے درمیان مزید رابطے متوقع ہیں تاکہ اس تعطل کو ختم کیا جا سکے۔