World
بھارت میں مون سون کی تباہ کاریان، سیلاب سے ایک سو سے زائد ہلاکتیں
بھارت میں مون سون کی غیر معمولی اور شدید بارشوں کے باعث ملک کے مختلف حصوں میں سیلاب اور لینڈ سلائیڈنگ کے واقعات رونما ہوئے ہیں۔ جولائی سے لے کر اب تک ان حادثات میں ایک سو سے زائد افراد کی ہلاک ہونے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔
بھارت میں مون سون کے سیزن کے دوران ہونے والی شدید اور تباہ کن بارشوں نے معمولاتِ زندگی کو شدید طور پر مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق جولائی کے مہینے سے شروع ہونے والے اس مون سون کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں سیلاب اور خطرناک لینڈ سلائیڈنگ کے متعدد واقعات پیش آئے ہیں، جن کے نتیجے میں اب تک سو سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلیوں اور ال نینو کے اثرات کی وجہ سے اس بار بارش کے روایتی انداز اور پیٹرن میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے، جو دنیا بھر کے ساتھ ساتھ جنوبی ایشیا کے لیے بھی بڑے خطرے کی علامت ہے۔
ملک کے کئی حصوں میں ہونے والی اس موسلا دھار بارش کے باعث دریاؤں میں طغیانی آ چکی ہے اور نشیبی علاقے مکمل طور پر زیرِ آب آ گئے ہیں۔ پانی کے ریلے اپنے راستے میں آنے والے مکانات، سڑکیں اور فصلیں بہا کر لے گئے ہیں، جس سے لاکھوں افراد بے گھر یا محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔ حکام کی جانب سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں تیزی سے جاری ہیں اور فوج سمیت ڈیزاسٹر مینجمنٹ کی ٹیمیں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ اس کے علاوہ، سڑکیں اور پل تباہ ہونے کی وجہ سے امدادی سامان کی ترسیل میں بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
ماہرِ موسمیات کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث دنیا بھر میں موسم کے شدت پسندانہ رجحانات میں اضافہ ہو رہا ہے، جس کی واضح مثال برصغیر میں آنے والے یہ غیر معمولی طوفان اور بارشیں ہیں۔ ال نینو کے مظہر نے اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جس کی وجہ سے بعض علاقوں میں خشک سالی تو بعض مقامات پر بادل پھٹنے جیسے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔ حکومت اور متعلقہ اداروں کے لیے اس قسم کی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے طویل المدتی حکمت عملی اپنانے کی اشد ضرورت ہے۔
متاثرہ علاقوں کے مکینوں کو اس وقت شدید ترین مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ ان کے روزگار کے ذرائع اور جمع پونجی ان بارشوں کی نذر ہو چکی ہے۔ ریاستی حکومتوں کی جانب سے مرنے والوں کے لواحقین کے لیے مالی امداد اور زخمیوں کو طبی سہولیات فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا ہے، لیکن نقصانات کا حجم اس قدر زیادہ ہے کہ بحالی کے اس عمل میں طویل عرصہ لگ سکتا ہے۔ عالمی برادری اور ماحولیاتی تنظیمیں بھی اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور جنوبی ایشیا میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے فوری اقدامات پر زور دے رہی ہیں۔