Politics
ریفارم یوکے کا پناہ گزینوں کی واپسی کا منصوبہ ماہرین کے نزدیک خطرناک
نائجل فاریج کی جماعت کے 'آپریشن فورٹریس' کے تحت تارکین وطن کو روکنے کے دعوے پر ماہرین نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ عملی طور پر انتہائی غیر حقیقت پسندانہ اور خطرناک ہے۔
برطانیہ کی سیاسی جماعت 'ریفارم یوکے' کی جانب سے تارکین وطن اور پناہ گزینوں کو روکے جانے اور انہیں واپس بھیجنے کے لیے بحریہ کے استعمال سے متعلق پیش کردہ نئے منصوبے پر ماہرین نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اس منصوبے کو 'آپریشن فورٹریس' کا نام دیا گیا ہے، جس کا مقصد مبینہ طور پر تارکین وطن کی آمد کو روکنا اور ملک میں ان کے داخلے پر قابو پانا ہے۔ پارٹی کے رہنما نائجل فاریج اور ان کے حامیوں کا مؤقف ہے کہ اس قسم کے سخت اقدامات ہی ملکی سرحدوں کی حفاظت اور غیر قانونی نقل مکانی کے تدارک کے لیے واحد موثر راستہ ہیں۔تاہم، دفاعی اور قانونی ماہرین نے اس تجویز کو سختی سے رد کرتے ہوئے اسے عمل میں انتہائی خطرناک اور غیر حقیقت پسندانہ قرار دیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بحریہ کے جہازوں کو اس مقصد کے لیے استعمال کرنا نہ صرف بین الاقوامی بحری قوانین کی خلاف ورزی کا باعث بن سکتا ہے بلکہ اس سے انسانی جانوں کو بھی شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ سمندر میں اس نوعیت کے سخت ترین اقدامات کے نتیجے میں انسانی المیوں کے جنم لینے کا خدشہ ہے، جس پر بین الاقوامی سطح پر بھی شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق، اس نوعیت کے بیانات اور تجاویز کا مقصد بظاہر سیاسی فائدہ اٹھانا اور ووٹرز کی ایک خاص تعداد کو اپنی طرف متوجہ کرنا ہے۔ لیکن عملی میدان میں ان پر عمل درآمد کرنا انتہائی پیچیدہ اور مہنگا ثابت ہو سکتا ہے۔ برطانوی حکومت اور متعلقہ اداروں کے لیے اس طرح کی تجاویز پر عمل پیرا ہونا نہ صرف انتظامی طور پر ناممکن ہے بلکہ یہ ملک کی روایتی قانونی اور اخلاقی اقدار کے بھی منافی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس بحث کے مزید شدت اختیار کرنے کا امکان ہے کیونکہ برطانوی سیاست میں تارکین وطن کا مسئلہ ہمیشہ سے ایک حساس ترین موضوع رہا ہے۔