LIVE
Loading Breaking News...

ٹرمپ ٹریڈ انڈیکس میں سولہ فیصد کمی، نِڈ ڈیوس ریسرچ کی رپورٹ جاری

News Image
نِڈ ڈیوس ریسرچ کے مطابق مئی کے بعد سے ٹرمپ ٹریڈ انڈیکس میں سولہ فیصد کی نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔ جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور بڑھتے ہوئے شرح سود اس پالیسی پر مبنی تیزی کے خاتمے کی بڑی وجوہات ہیں۔
معروف تحقیقی ادارے نِڈ ڈیوس ریسرچ (Ned Davis Research) کی جانب سے جاری کردہ ایک تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ سیاسی شرطیں اور توقعات ماند پڑنے کے بعد 'ٹرمپ ٹریڈ انڈیکس' میں سولہ فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ تنزلی خاص طور پر اس وقت سے شروع ہوئی جب دنیا بھر میں جغرافیائی سیاسی تناؤ میں اضافہ ہوا اور مالیاتی منڈیوں میں شرح سود بلند ہونے لگیں۔ اداروں اور سرمایہ کاروں کی جانب سے لگائے جانے والے سیاسی اندازے اب دھندلا رہے ہیں جس کی وجہ سے اس پالیسی پر مبنی ریلی کا زور بھی ٹوٹ چکا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سیاسی حالات میں تبدیلی اور معاشی اشاریوں کے بدلتے ہوئے رخ نے سرمایہ کاروں کو اپنے فیصلے پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ حالیہ مہینوں کے دوران مارکیٹ میں متوقع رجحانات کے برعکس صورتحال سامنے آئی ہے، جس کی وجہ سے منڈی کے روایتی کھلاڑی محتاط رویہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ نِڈ ڈیوس ریسرچ کی یہ رپورٹ مالیاتی منڈیوں میں ایک اہم موڑ کی غمازی کرتی ہے جہاں سیاسی غیر یقینی صورتحال براہ راست اقتصادی اور تجارتی اشاریوں پر اثر انداز ہو رہی ہے۔ ماہرینِ معاشیات کے مطابق، جب تک عالمی سطح پر جغرافیائی سیاسی تناؤ میں کمی نہیں آتی اور شرح سود کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال ختم نہیں ہوتی، اس قسم کے انڈیکسز میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہنے کا قوی امکان ہے۔ سرمایہ کار اس صورتحال میں نہایت عقل مندی اور احتیاط سے کام لے رہے ہیں تاکہ کسی بھی بڑے نقصان سے بچا جا سکے، جبکہ دوسری جانب پالیسی ساز بھی ان بدلتے ہوئے حالات گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔