Technology
اسپیس ایکس راکٹ کا ٹکڑا چاند سے ٹکرا گیا، ماہرین کی تصدیق
اسپیس ایکس کے فالکن 9 راکٹ کا ایک پرانا ٹکڑا تیز رفتاری کے ساتھ چاند سے ٹکرا گیا ہے جس کی تصدیق زمینی دوربینوں کے ذریعے کی جائے گی۔ اس حادثاتی تصادم سے خلائی کچرے کے حوالے سے بڑھتے ہوئے خدشات پر دوبارہ بحث شروع ہو گئی ہے۔
خلائی تحقیقاتی ادارے اسپیس ایکس کے ایک پرانے راکٹ کا ٹکڑا جو گزشتہ سال سے خلا میں تیر رہا تھا، بدھ کی صبح تیز رفتار کے ساتھ چاند سے ٹکرا گیا ہے۔ ماہرین فلکیات کا کہنا ہے کہ یہ اسکول بس کے سائز کا آبجیکٹ اسپیس ایکس کے فالکن 9 راکٹ کا دوسرا مرحلہ تھا، جس نے جنوری 2025 میں فائر فلائی ایرو اسپেস کا ایک قمری لینڈر چاند کی طرف روانہ کیا تھا۔ چار میٹرک ٹن وزنی یہ راکٹ باڈی پانچ ہزار چار سو میل فی گھنٹہ کی رفتار سے چاند سے ٹکرانے کے لیے مخصوص راستے پر تھا۔ ماہرین کے مطابق، چاند کے مدار میں گردش کرنے والے کسی بھی خلائی جہاز کے پاس اس تصادم کی براہ راست تصاویر لینے کا موقع موجود نہیں تھا، تاہم زمینی دوربینوں کے ذریعے اس حادثے کی تصدیق کی جارہی ہے۔ یہ تصادم غیر ارادی تھا اور اسپیس ایکس کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ یہ ٹکڑا آئن سٹائن کریٹر کے قریب گرا ہے۔ عام طور پر راکٹ کے ایسے مرحلے زمین کے ماحول میں واپس آ کر جل جاتے ہیں یا سمندر میں گر جاتے ہیں، تاہم اس خصوصی مشن میں زیادہ تھرسٹ کی ضرورت ہونے کی وجہ سے یہ راکٹ کا حصہ خلا میں ہی رہ گیا تھا اور بے قابو ہو کر چاند کے مدار میں داخل ہو گیا۔ سورج کی سرگرمیوں اور کشش ثقل کی مشترکہ قوتوں نے اسے چاند کی طرف دھکیل دیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کے واقعات سے کسی کو کوئی براہ راست خطرہ لاحق نہیں ہوتا، لیکن یہ واقعہ اس بات کو اجاگر کرتا ہے کہ خلا میں باقی ماندہ سامان اور خلائی کچرے کو ضائع کرنے کے طریقوں میں مزید بہتری کی ضرورت ہے۔ ماضی میں بھی چاند سے اس قسم کے ٹکڑے ٹکرانے کے واقعات پیش آ چکے ہیں، جن میں سنہ 2022 میں ایک چینی راکٹ کا گرنا بھی شامل ہے۔ اس واقعے کے بعد ناسا اور اسپیس ایکس کے درمیان آئندہ اس طرح کے حادثات سے بچنے کے لیے نئے لائحہ عمل پر غور کیا جا رہا ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب ناسا کا آرٹیمس پروگرام چاند پر مستقل بیس بنانے کی تیاری کر رہا ہے۔