LIVE
Loading Breaking News...

امریکی تجارتی پابندیوں پر چین کا جوابی ردعمل اور اقدامات

News Image
امریکہ کی جانب سے نئی تجارتی پابندیوں کے اعلان کے بعد چین نے بھی جوابی اقدامات اٹھانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ دونوں عالمی اقتصادی طاقتوں کے درمیان کشیدگی میں ایک بار پھر اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
بیجنگ: امریکہ کی جانب سے نئی تجارتی پابندیوں کے اعلان کے بعد چین نے بھی سخت جوابی اقدامات اٹھانے کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔ چینی وزارتِ تجارت کی جانب سے جاری کردہ بیان میں اس بات پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ امریکی فیصلے سے دوطرفہ تجارتی تعلقات کو شدید نقصان پہنچے گا اور عالمی سپلائی چین بھی متاثر ہوگی۔ چین کا ماننا ہے کہ واشنگٹن کی جانب سے عائد کردہ یہ پابندی حقیقت میں تجارتی قوانین کی خلاف ورزی اور منڈی کے اصولوں کے منافی ہے۔ امریکہ اور چین کے درمیان تجارتی اور اقتصادی میدان میں رسہ کشی کوئی نئی بات نہیں ہے، تاہم حالیہ اقدامات نے دونوں ممالک کے تعلقات کو مزید کشیدہ کر دیا ہے۔ امریکی حکومت نے حالیہ دنوں میں چینی اداروں اور مخصوص شعبوں پر برآمدی پابندیاں سخت کر دی تھیں جس کے بعد بیجنگ کی جانب سے اس ردعمل کا انتظار کیا جا رہا تھا۔ چینی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اپنے قومی مفادات، ملکی صنعتوں اور تجارتی اداروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر ممکنہ جوابی قدم اٹھائیں گے۔ عالمی اقتصادی ماہرین نے اس پیش رفت پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اگر دونوں معاشی تگڑے حریفوں نے اپنے تضاد کو مزید بڑھایا تو اس کے اثرات صرف دونوں ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری دنیا کی معیشت اس کی لپیٹ میں آ سکتی ہے۔ مہنگائی، تجارتی بحران اور سپلائی چین میں تعطل کے خطرات پہلے سے ہی منڈلا رہے ہیں، اور اس تازہ کشیدگی سے سرمایہ کاروں میں بھی بے یقینی کی فضا پھیل گئی ہے۔ آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی سطح پر رابطے متوقع ہیں تاکہ صورتحال کو مزید بگڑنے سے روکا جا سکے۔ تاہم، فی الحال زمین پر دونوں جانب سے جوابی اقدامات اور بیانات کا سلسلہ جاری ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ تجارتی جنگ ایک بار پھر شدت اختیار کر رہی ہے۔