Politics
واپڈا سیکیورٹی فورس قانون سازی پر قومی اسمبلی کمیٹی کا اجلاس
قومی اسمبلی کی متعلقہ کمیٹی نے واپڈا تنصیبات کے تحفظ کے لیے ایک نئی سیکیورٹی فورس کے قیام سے متعلق قانون سازی کا جائزہ لیا ہے۔ اجلاس میں اس تجویز کے مختلف قانونی اور انتظامی پہلوؤں پر تفصیلی غور کیا گیا ہے۔
اسلام آباد میں قومی اسمبلی کی ایک اہم ذیلی کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا جس میں ملک بھر میں واپڈا کے زیر انتظام اہم تنصیبات، ڈیمز اور پاور ہاؤسز کے تحفظ کو مزید موثر بنانے کے لیے ایک الگ سیکیورٹی فورس کے قیام سے متعلق مجوزہ قانون سازی پر غور کیا گیا۔ اجلاس کے دوران قانون سازی کے مسودے کے مختلف حصوں کا باریک بینی سے جائزہ لیا گیا تاکہ توانائی کے اہم ڈھانچے کو کسی بھی ممکنہ سیکیورٹی خطرے سے محفوظ رکھا جا سکے۔
ذرائع کے مطابق کمیٹی کے اراکین نے تجویز کردہ سیکیورٹی فورس کے اختیارات، دائرہ کار، اور اس کی تشکیل کے طریقہ کار پر تفصیلی بحث کی۔ اس موقع پر متعلقہ حکام نے اراکین کو بریفنگ دی کہ موجودہ سیکیورٹی انتظامات کو مزید مضبوط کرنے کے لیے ایک سرشار اور پیشہ ورانہ فورس کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے۔ اس کے علاوہ، دیگر سیکیورٹی اداروں کے ساتھ اس نئی فورس کے تعاون اور ہم آہنگی کے امور پر بھی روشنی ڈالی گئی۔
اجلاس میں شریک اراکین نے اس بات پر زور دیا کہ قومی اثاثوں کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے کسی بھی قانونی سقم کو دور کیا جانا چاہیے۔ کمیٹی نے قانون سازی کے اس عمل کو مزید شفاف اور جامع بنانے کے لیے تجاویز طلب کر لی ہیں تاکہ مسودہ قانون کو حتمی شکل دے کر منظوری کے لیے ایوان میں پیش کیا جا سکے۔ توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس قانون کے نفاذ سے ملک کے اہم توانائی کے منصوبوں کی سیکورٹی میں نمایاں بہتری آئے گی۔