World
آبِ ہرمز معاہدہ: ایران کو ٹریفک کا کنٹرول ملنے کی اطلاعات
امریکہ اور عمان کے درمیان آبِ ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے بات چیت جاری ہے جس سے عالمی سطح پر اسٹاک مارکیٹ میں تیزی دیکھی گئی ہے۔ مجوزہ معاہدے کے تحت ایران کو آبنائے میں آنے والی بحری ٹریفک کا کنٹرول مل سکتا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق آبِ ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے جاری سفارتی کوششوں میں اہم پیشرفت ہوئی ہے، جس کے تحت ایران کو اسٹریٹجک لحاظ سے اہم آبی گزرگاہ میں آنے والی ٹریفک کا کنٹرول دینے کی تجویز زیر غور ہے۔ باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ اس مجوزہ ڈیل کے نمایاں خدوخال طے کیے جا رہے ہیں جس سے خطے میں جاری کشیدگی میں کمی آ سکتی ہے۔ یہ پیشرفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی سطح پر توانائی کی سپلائی اور سمندری تجارت کے حوالے سے شدید خدشات پائے جا رہے تھے۔
امریکہ اور عمان کی توسط سے ہونے والی ان بات چیت کے مثبت اثرات عالمی معیشت پر بھی پڑنا شروع ہو گئے ہیں۔ وال اسٹریٹ جنرل اور دیگر معتبر مالیاتی ذرائع کے مطابق، ڈیل کے قریب ہونے کی خبروں کے بعد امریکی اسٹاک مارکیٹ میں نمایاں تیزی دیکھی گئی ہے۔ سرمایہ کاروں نے اس پیشرفت کو خوش آئند قرار دیا ہے کیونکہ اس سے عالمی منڈی میں تیل کی رسد بحال ہونے اور قیمتوں کے استحکام میں مدد ملے گی۔ تاہم تاحال تہران کی جانب سے اس بابت حتمی ردعمل کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ایرانی میڈیا نے اس معاملے پر قدرے محتاط رویہ اختیار کیا ہے اور مبصرین کا کہنا ہے کہ ابھی چند تکنیکی اور سیاسی امور پر مزید بات چیت کی ضرورت ہے۔ تہران نے واضح کیا ہے کہ اس معاملے پر ہونے والی بعض بات چیت براہ راست عمان کے توسط سے ہیں جن میں واشنگٹن براہ راست فریق نہیں۔ اس کے باوجود امریکی حکام اور عالمی سطح پر رہنماؤں کا ماننا ہے کہ اگر فریقین لچک کا مظاہرہ کریں تو آنے والے چند دنوں میں ایک تاریخی معاہدہ طے پا سکتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آبِ ہرمز کی بندش یا اس میں رکاوٹیں عالمی تجارت کے لیے ہمیشہ سے ایک بڑا چیلنج رہی ہیں۔ اگر موجودہ تجاویز کے تحت ایران کو اندرونِ ملک آنے والی ٹریفک کا کنٹرول ملتا ہے تو یہ ایک بڑا اسٹریٹجک موڑ ہوگا۔ اس سے نہ صرف بحری جہازوں کی نقل و حرکت محفوظ ہوگی بلکہ خلیجی خطے میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے بھی نئے راستے کھلیں گے، جس پر پوری دنیا کی نگاہیں مرکوز ہیں۔