World
ایرانی صدر پزشکیان کی حماس رہنما سے گفتگو اور فلسطینی کاز کی حمایت
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تہران فلسطینی قیادت کے ہر فیصلے کی بھرپور حمایت کرے گا۔ انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ فلسطین ایران کی خارجہ پالیسی میں اولین ترجیح رہے گا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ کے ساتھ ایک اہم ٹیلیفونک گفتگو کے دوران اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ایران فلسطینی عوام اور ان کی قیادت کے ہر فیصلے کی غیر مشروط حمایت جاری رکھے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں سفارتی سرگرمیاں تیز ہیں اور غزہ میں جاری کشمکش کے خاتمے کے لیے مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ تہران کے نزدیک فلسطینیوں کے حقوق کا دفاع اور ان کی خود ارادیت کی حمایت ایک بنیادی اصول ہے۔ گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے موجودہ علاقائی صورتحال اور فلسطین کے حوالے سے درپیش چیلنجز پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔ ایرانی صدر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خطے میں امن و استحکام کا قیام صرف اس وقت ممکن ہے جب فلسطینی عوام کے حقوق کو تسلیم کیا جائے اور ان کی مرضی کے مطابق فیصلے کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر فلسطین کا مقدمہ لڑنا اور مظلوم عوام کی پشت پناہی کرنا ایرانی خارجہ پالیسی کے اہم ترین ستونوں میں شامل ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق تہران کی جانب سے اس قسم کے بیانات خطے کی سیاسی حرکیات پر گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب غزہ کے مستقبل کے بارے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں۔ ایران کی جانب سے حماس کے لیے اس تازہ عزم کے اظہار سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران موجودہ تنازع کے دوران فلسطینی دھڑوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے اور ان کے فیصلوں کی پشت پناہی کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔