LIVE
Loading Breaking News...

اسلام آباد ایکسپریس وے کی توسیع اور نئے انڈر پاسز کا افتتاح

News Image
وفاقی دارالحکومت میں اسلام آباد ایکسپریس وے کو فیض آباد سے کورال चौक تک چھ لین تک وسیع کرنے کے منصوبے کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس اہم انفراسٹرکچر منصوبے پر پانچ ارب روپے سے زائد کی لاگت آئے گی جس سے شہریوں کو سفری سہولتیں میسر ہوں گی۔
اسلام آباد کے شہریوں کے لیے بڑی خبر یہ ہے کہ دارالحکومت میں ٹریفک کے نظام کو بہتر بنانے اور روزانہ کی بنیاد پر لگنے والے طویل جام سے نجات دلانے کے لیے اسلام آباد ایکسپریس وے کی توسیع کے ایک نئے میگا منصوبے پر کام کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ وفاقی دارالحکومت میں انفراسٹرکچر کی بہتری اور ایمرجنسی خدمات کے فروغ کے تحت یہ قدم اٹھایا گیا ہے تاکہ بڑھتی ہوئی ٹریفک کو کنٹرول کیا جا سکے۔ ذرائع کے مطابق اس منصوبے پر کل لاگت پانچ ارب روپے سے زائد یعنی قریباً پانچ اعشاریہ صفر سات ارب روپے متوقع ہے۔ کیپिटल ڈویلپمنٹ اتھارٹی (CDA) نے فیض آباد سے کورال चौक تک کے مصروف ترین روڈ کو چھ لین تک وسیع کرنے کا باقاعدہ آغاز کر دیا ہے۔ اس منصوبے کے تحت سڑک کی کشادگی کے علاوہ دو نئے انڈر پاسز کی تعمیر بھی شامل ہے تاکہ مسافروں اور روزانہ کی آمدورفت کرنے والوں کو بغیر کسی رکاوٹ کے سفر کی سہولت فراہم کی جا سکے۔ حکام کا ماننا ہے کہ فیض آباد اور کورال चौक کے درمیان ٹریفک کا دباؤ انتہائی زیادہ ہے اور اس چھ لین روڈ پروجیکٹ کی تکمیل سے ہزاروں گاڑیوں کی روانی میں بہتری آئے گی۔ حکام نے متعلقہ محکموں کو ہدایت کی ہے کہ اس ترقیاتی کام کو مقررہ مدت کے اندر اعلیٰ معیار کے ساتھ مکمل کیا جائے۔ اسلام آباد کے اس اہم شاہراہ پر تعمیراتی کام شروع ہونے سے جہاں شہریوں کو عارضی طور پر آمدورفت میں کچھ مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے، وہیں طویل المدتی بنیادوں پر یہ منصوبہ دارالحکومت کے ٹریفک کے مسائل کا ایک بہترین حل ثابت ہوگا۔ تعمیراتی سرگرمیوں کے دوران ٹریفک پولیس کی جانب سے متبادل راستے بھی فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ عوام کو کم سے کم دشواری کا سامنا کرنا پڑے۔ اس منصوبے کو وفاقی دارالحکومت میں ترقیاتی سرگرمیوں کا ایک اور سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ شہریوں اور کاروباری حلقوں نے بھی اس قدم کا خیرمقدم کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ سی ڈی اے اس منصوبے کو بغیر کسی تاخیر کے مکمل کرے گا۔ وفاقی حکومت کی جانب سے ملک بھر اور بالخصوص دارالحکومت میں سڑکوں کے بنیادی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے یہ ایک اور بڑا اور عملی قدم ہے۔