LIVE
Loading Breaking News...

امریکہ ایران مذاکرات کے بعد تیل کی قیمتوں میں ردوبدل

News Image
گزشتہ روز پانچ فیصد تک بڑی کمی کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کچھ بحالی دیکھی گئی ہے۔ سرمایہ کاروں کی تمام تر توجہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات اور ممکنہ معاہدے پر مرکوز ہے۔
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں ایک روز قبل ہونے والی نمایاں کمی کے بعد اب معمولی بحالی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق، گزشتہ روز تیل کی قیمتوں میں پانچ فیصد سے زائد کی بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی تھی، جس کی بنیادی وجہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات میں ممکنہ پیش رفت کی اطلاعات تھیں۔ سرمایہ کار اس صورتحال کو بہت قریب سے مانیٹر کر رہے ہیں کیونکہ مشرق وسطیٰ کے حالات براہِ راست عالمی توانائی کی سپلائی کو متاثر کرتے ہیں۔ اس سے قبل، رائٹرز اور وال اسٹریٹ جنرل سمیت کئی بین الاقوامی خبر رساں اداروں نے اپنی رپورٹس میں بتایا تھا کہ امریکہ اور ایران کے مابین رابطے میں تیزی آئی ہے اور کسی ممکنہ ڈیل کے حوالے سے بات چیت جاری ہے۔ سی این بی سی اور دیگر مالیاتی پلیٹ فارمز کے مطابق، مارکیٹ میں آبنائے ہرمز سے متعلق کسی بھی ممکنہ معاہدے کی توقعات بھی قیمتوں پر اثرانداز ہو رہی ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فریقین کے درمیان کوئی باضابطہ معاہدہ طے پا جاتا ہے تو اس سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی رسد بڑھ سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قیمتوں میں مزید استحکام یا کمی کی گنجائش نکل سکتی ہے۔ دوسری جانب، کچھ تجزیہ کاروں کا یہ بھی ماننا ہے کہ مارکیٹ فی الوقت ایک ایسے ایرانی معاہدے کو قیمتوں میں شامل کر رہی ہے جو تاحال حتمی شکل اختیار نہیں کر سکا۔ یہی وجہ ہے کہ تیل کے سوداگر (ٹریڈرز) انتہائی احتیاط سے کام لے رہے ہیں اور ہر نئی سیاسی پیش رفت کے ساتھ قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری ہے۔ ماہرینِ اقتصادیات کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی کوششوں کا رخ ہی طے کرے گا کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں کس سمت کا تعین کرتی ہیں۔