LIVE
Loading Breaking News...

ور্ল্ড بینک کا ترقی پذیر ممالک کو مصنوعی ذہانت اپنانے کا مشورہ

News Image
ور্ল্ড بینک نے خبردار کیا ہے کہ ترقی پذیر ممالک کو مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کو اپنانا ہوگا بصورت دیگر وہ عالمی معیشت میں بہت پیچھے رہ جائیں گے۔ عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ اے آئی ترقی پذیر معیشتوں کو ایک دہائی میں ایک صدی کی ترقی فراہم کر سکتی ہے۔
عالمی بینک (ور্ল্ড بینک) نے ایک اہم بیان میں کہا ہے کہ تمام ترقی پذیر ممالک کو مصنوعی ذہانت یعنی آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کو فوری طور پر اپنانا چاہیے، بصورت دیگر وہ عالمی معیشت اور ترقی کی دوڑ میں بہت پیچھے رہ جائیں گے۔ عالمی مالیاتی ادارے کا یہ بھی کہنا ہے کہ ترقی پذیر معیشتوں کے پاس اس ٹیکنالوجی سے فائدہ اٹھانے کا سنہری موقع ہے کیونکہ ان کے پاس کھونے کے لیے کم اور پانے کے لیے بہت کچھ موجود ہے۔ تجزیات کے مطابق مصنوعی ذہانت کے بروقت استعمال سے ترقی پذیر ممالک وہ ترقی حاصل کر سکتے ہیں جو روایتی طریقوں سے ایک صدی میں ممکن ہوتی، اور اب یہ ہدف صرف ایک دہائی میں حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس ٹیکنالوجی کا پھیلاؤ نہ صرف معاشی پیداوار میں اضافہ کرے گا بلکہ مختلف شعبوں میں کارکردگی کو بھی شاندار طریقے سے بہتر بنائے گا۔ دوسری جانب، ماہرین اور معاشی اداروں نے پاکستان جیسے ممالک کے لیے بھی وارننگ جاری کی ہے کہ اے آئی کا نفاذ اور بڑھتا ہوا رجحان یہاں کی جاب مارکیٹ اور روزگار کے مواقع پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔ لہذا، پاکستان سمیت تمام ترقی پذیر خطوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے تعلیمی نظام اور پیشہ ورانہ ڈھانچے میں مصنوعی ذہانت کو ترجیح دیں تاکہ نوجوان نسل کو جدید تقاضوں کے مطابق تیار کیا جا سکے۔ عالمی بینک کی اس رپورٹ نے دنیا بھر کے پالیسی سازوں کی توجہ اس جانب مبذول کرا دی ہے کہ ڈیجیٹل دور میں بقا کے لیے مصنوعی ذہانت سے منہ موڑنا ممکن نہیں رہا۔