Business
امریکی کار قرضوں میں منفی ایکویٹی کا بحران اور اقتصادی اثرات
امریکہ میں حالیہ تحقیق کے مطابق تقریباً ایک تہائی کار مالکان اپنے قرضوں کے مقابلے میں گاڑیوں کی کم قیمت کی وجہ سے منفی ایکویٹی کا سامنا کر رہے ہیں۔ گاڑیوں کی خریداری پر منفی ایکویٹی کی اوسط رقم بڑھ کر 6,884 ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
امریکہ میں گاڑیوں کے خریداروں کے لیے مالی مشکلات میں اضافہ ہو رہا ہے، جہاں حالیہ اعداد و شمار کے مطابق تقریباً ایک تہائی کار قرض لینے والے منفی ایکویٹی کا شکار ہو چکے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان افراد کی گاڑیوں کی بازیافتہ یا موجودہ مارکیٹ ویلیو ان کے بقایا کار قرضوں سے نمایاں طور پر کم ہے، جس کی وجہ سے وہ مالیاتی دباؤ کی زد میں ہیں۔ معروف آٹوموٹو ریسرچ ادارے ایڈمنڈز (Edmunds) کی جانب سے جاری کردہ تحقیق کے مطابق، اس اضافی لاگت یا منفی ایکویٹی کا اوسط حجم بڑھ کر 6,884 ڈالر تک جا پہنچا ہے، جو کہ متوسط طبقے کے لیے ایک بڑا معاشی بوجھ بنتا جا رہا ہے۔ ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ اس صورتحال کی بنیادی وجوہات میں گاڑیوں کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ، بلند شرح سود اور طویل مدتی قرضوں کے معاہدے شامل ہیں، جن کی وجہ سے خریدار اپنی گاڑی کی اصل قیمت سے زیادہ قرضہ چکانے پر مجبور ہیں۔ جب صارفین اپنی پرانی گاڑی کو نئی گاڑی کے ساتھ تبدیل کرنے بازار کا رخ کرتے ہیں، تو ان کے بقایا قرض کا بقایا حصہ نئی فنانسنگ میں شامل کر دیا جاتا ہے، جس سے منفی ایکویٹی کا یہ طویل سلسلہ مزید گہرا ہوتا چلا جاتا ہے۔ اس رجحان نے نہ صرف انفرادی سطح پر گھریلو بجٹ کو متاثر کیا ہے بلکہ مجموعی آٹوموبائل مارکیٹ کے لیے بھی خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، کیونکہ مالیاتی اداروں کو بھی اس دوران نادہندگی کے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا ہے۔ اگرچہ کچھ ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ صورتحال معاشی اتار چڑھاؤ کا حصہ ہے، تاہم اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ خریداروں کو گاڑیوں کی طویل مدتی فنانسنگ کرتے وقت انتہائی احتیاط سے کام لینا چاہیے تاکہ وہ اس قسم کے منفی مالیاتی جال میں پھنسنے سے بچ سکیں۔